کرونا ویکسین سے متعلق تمام سوالات کے جوابات جانیے؟

ویکسین کا کیا مطلب ہے؟

( کرونا ویکسین )وکا لاطینی زبان  کا  لفظ ہے جس کے معنی   ہیں  گائے۔   لہٰذ ا ویکسین  کا           مطلب  گائے سے لیئے  جانے   والی  چیز    ہے۔

ویکسین کیا ہوتی ہے؟

اس کو سادہ الفاظ میں دوائی کہا جاسکتا ہے جو ہمارے جسم کو انفیکشن سے لڑنے کے لئے تیار کر تی ہے۔ویکسین کی مدد سے وائرس کا ایک چھوٹا مکر بے ضرر حصہ آپ کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے. جس کے نتیجے میں آپ کا مدافعاتی نظام یعنی امیون سسٹم اُس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز/ضِد جراثیم(خُون کے اندر بننے والا ایسا مواد جو جراثیم کو تلف کر دیتا ہے) بنا تا ہے۔

اس طرح وائرس کے  ممکنہ حملے سے یا آپ مکمل طور پر محفوظ رہیں گے. یا آپ کے شدید بیمار ہوئے بغیر آپ کا مدافعاتی نظام اُس وائرس کا مقابلہ کرکے اُسے شکت دے گا۔

ویکسین کا آغاز کہاں سے ہوا، اس کی تاریخ کیا ہے؟

ویکسین سب سے پہلے چائنیز ماہرین نے ایجاد کی مگر اُس کو ترقی مسلمانوں نے تُرکی میں خلافت عثمانیہ کے دور میں دی۔برطانوی سائنس دان گیرتھ ولیم نے اپنی کتاب اینجل آف ڈیتھ چیچک /سمال پوکس کی تباہ کُن تاریخ پر لکھی تھی. مذکورہ بالا کتاب میں تحریر کیا گیا کہ ایک بر طانوی مصنفہ اور مشہور شاعرہ لیڈ ی میری ممتاز جو ایک برطانوی سفیر کی اہلیہ ہیں. سفیر مذکور خلافت عثمانیہ میں استنبو ل میں تعینات تھے۔

سترہ سو دو میں لیڈی میری ممتاز نے وہاں (ترکی) چیچک کے لئے طریقہ علاج کا مشاہد ہ کیا. جس میں بیماری کے ایک ذرے کو کمزور حالت میں انسان کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔میری ممتاز کی اپنی بیٹی چیچک کی بیماری سے ہلاک ہوئی اور اُن کے اپنے چہرے پر چیچک کی وجہ سے داغ تھے۔اُنھوں نے اپنے پانچ سالہ بیٹے کے لئے اُس ویکسین کو استعمال کیا. پھر اس کے متعلق برطانیہ کو خطوط لکھے۔

بعدازاں ڈاکٹر ایڈورڈ جینر نے سترہ سو چھیانوے میں مذکورہ بالا طریقے کا باقاعدہ استعمال کیا .اُس وقت چیچک /سمال پوکس کی بیماری نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی تھی. اور اُس کے علاج کے لئے تحقیقات جاری تھی۔اُس وقت ایک اور بیماری جو گائے کو لگتی تھی جسے کو پوکس کہا جاتا تھا. اُس بیماری کے کچھ جراثیم مذکورہ بالا ڈاکٹر نے انسانی جسم میں داخل کیئے۔

یہ تجربہ سترہ سالہ ایک نوجوان پر کیا گیا تھا۔اُس نوجوان کے ہاتھ پر کٹ لگاکر اُس میں جو بیماری گائے کو لگتی تھی اُس کا کچھ حصہ نوجوان کے جسم میں انجیکٹ کیا گیا. تاکہ اصل بیماری سمال پاکس سے لڑنے کے لئے نوجوان کا جسم پہلے سے تیار ہوجائے۔

کیا اسلام میں اقدامی تحفظ کے حوالے سے کوئی تصور موجود ہے؟

صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ
ترجمہ۔جس شخص نے سات عجوہ کھجوریں صبح کے وقت کھالیں اُسے پورے دن میں کوئی زہر اور کوئی جادو نقصان نہ پہنچائے گا۔

کیا کرونا ویکسین حلال ہے؟سُنا ہے اُس میں خنزیر کے عناصر پائے جاتے ہیں؟

ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے ویکسین میں شامل کیئے جانے والے اجزاء کی تفصیل مہیا نہ کی ہے.اس لئے یہ امر معلوم نہ ہوسکا ہے کہ اُن میں کون سے عناصر پائے جاتے ہیں۔

تاہم بعض ویکسین میں پورسائن گیلاٹن اور بعض میں اینزائم کا استعمال ہوتا ہے جو خنزیر سے اخذ ہوتا ہے۔اس لئے مذکورہ بالا ویکسین کے بارے شکوک و شبہات موجود ہیں۔

سُنا ہے آر این اے ویکسین جو امریکی کمپنی فائزربائیونٹیک نے بنائی ہے حلال ہے؟

آر این اے ویکسین امریکی کمپنی فائزربائیونٹیک نے بنائی ہے. اور دعویٰ کیا ہے کہ اُس میں وائرس     اور نہ ہی  کسی جاندار کا عنصر شامل کیا گیا ہے۔اُن کی ریسرچ کے مطابق اُن کا دعویٰ سچا ثابت ہو چکا ہے. بلکہ علماء نے بھی متذکرہ بالا ویکسین کو کسی حد تک صحیح قرار دیا ہے۔

کیا پاکستان میں لگائی جانے والی چائنیز اور رشین ویکسین حلال ہیں؟

برٹش اسلامک کونسل، مجلس اُگا ما اسلام سنگا پورہ، کویت میڈیکل جنرل وغیرہ نے استحالا (کیمیکل ٹرانسفورمیشن) کے نظریے کو پیش کیا ہے۔اس کا مطلب ہے اصلی ہیت سے نکل کر دوسری ہیت میں تبدیل ہوجانا کہ اُس کی پہلی ہیت بالکل ختم ہو جائے۔

سادہ الفاظ میں ایک چیز کا اپنی اصلی حالت سے تبدیل ہو کر کسی دوسرے حالت میں چلے جانا  استحالا  کہلاتا ہے. جسے انگریزی میں کیمیکل ٹرانسفورمیشن کہتے ہیں۔اس ضمن میں ایک حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے. جس کے مطابق شراب اگر پڑے پڑے سرکے میں تبدیل ہو جائے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے-اس قاعدے کو بنیاد بناتے ہوئے بعض علماء کا کہنا ہے کہ پورسائن گیلاٹن اور اینزائم جس میں البتہ خنزیر کے عناصرتو استعمال ہوتے ہیں.

تاہم پراڈکٹ کی تیاری میں یہ اجزاء موجود نہیں. اس کی اصل کیفیت یعنی خنزیر والی حالت اُس میں سے ختم ہوجاتی ہے. لہٰذا ٹرانسفورمیشن کے بعد وہ چیز حرام سے نکل کر حلال ہوجاتی ہے۔

کیا ملائشیاء اسلامک فتویٰ کمیٹی نے کرونا ویکسین کو حرام قرار دیا ہے؟

ملائشیاء اسلامک فتویٰ کمیٹی کی ریسرچ کے مطابق ویکسین میں کیمیکل ٹرانسفارمیشن ثابت نہ ہو سکی ہے۔اُس کے مطابق استحالا کااصول اُس وقت لاگو ہوگا جبکوئی چیز خود بخود اپنی اصل حالت سے کسی دوسری حالت میں تبدیل ہو جائے۔مصنوعی طور پر تبدیل کرنے کی صورت میں کیمیکل ٹرانسفارمیشن کا اصول عائد نہ ہو تا ہے۔

اس بابت حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے. ” ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ میرے پاس یتیموں کا مال ہے اور اُس میں شراب بھی ہے. اگر آپ اجازت دیں تو میں شراب میں کیمیکل وغیرہ ڈال کر اسے سرکے میں تبدیل کرلوں تو آپ نے منع فرما دیا”۔اسی طرح مسلم کی حدیث کا حوالہ موجود ہے. “ایک صحابہ نے سوال کیا کہ کیا ہم شراب کو خود سرکے میں تبدیل کرسکتے ہیں جس پر آپ نے منع فرما دیا”۔

مصر کی دارولفتہ کمیٹی اور کچھ دیگر علماء نے مذکورہ بالا ویکسین کو حلال قرار دیا ہے؟

مصر کی دارولفتہ کمیٹی اور کچھ دیگر علماء نے دلیل پیش کی ہے کہ اگر کسی چیز سے جان بچانا غرض ہو تو شریعت کی پابندی ختم ہو جاتی ہے. جس طرح رب کائنات کا فرمان ہے کہ مُردار، خون خنزیر تم پر حرام ہیں. مگر مجبوری کی حالت میں جب جان بچانی مقصود ہوتو وہی مُردار، خون اور خنزیر حلا ل ہوجاتے ہیں۔

لہٰذا بزرگ اور بیمار چونکہ وائرس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں. اس لئے وہ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں کوئی شخص   دعویٰ  سے نہیں کہہ سکتا کہ اُس کا مدافعاتی نظام اتنا مضبو ط ہے کہ وائرس کا مقابلہ کر سکے ۔لہٰذا متذکرہ بالا دلیل اور اصو ل کو مد نظر رکھتے ہوئے علمائے کرام نے بالعمو م مسلمانوں کواجازت دی ہے کہ وہ ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئےکرونا ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

اگر مستقبل میں ویکسین بنانے والی کمپنیاں اجزاء کی فہرست مہیاکر دیتی ہیں. اور ہم پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ویکسین میں کسی حرام چیز کی شمولیت نہیں. تو ہم بڑے اطمینان کے ساتھ ویکسین کا استعمال کرتے ہوئے اقدامی تحفظ اختیار کرسکتے ہیں۔

ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس/ضمنی اثرات؟

ہر دوائی کے کوئی نہ کوئی ضمنی اثرات ضرورت ہوتے ہیں. لہٰذا ماہرین کے مطابق کرونا ویکسین کے کچھ معمولی سے ضمنی اثرات ضرور ہیں۔

کیا کرونا ویکسین کسی لوبی کا حصہ ہے؟

ہمارا رب کسی کی منصوبہ بندی کا پابند نہیں. اُس کی اپنی منصوبہ بندی اور ارادہ ہے۔البتہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ دنیا کے ظاہری معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔ہم ظاہر کے مکلم ہیں۔افواہیں کہ فلاں کی سازش ہے، لابی ہے، نیو ورلڈ آرڈر ہے پر کان دھرنے کی بجائے ہمیں درج ذیل آیت کو سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیئے
ترجمہ۔اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اُس کی تحقیق کر لیا کرو۔

فرحان بٹ (گزیٹڈ افسر حکومت پنجاب)

 کرونا وائرس کے عالمگیر اثرات

کووڈ نائنٹین کی ویکسین لگوانے کے بعد کچھ ممکنہ مضر اثرات

اپنا تبصرہ بھیجیں

one × 1 =