خواجہ سراؤں کی دینی تعلیم کے لیے پہلا مدرسہ قائم کر دیا گیا.

خواجہ سراؤں کی دینی تعلیم کے لیے پہلا مدرسہ قائم کر دیا گیا.

زرائع ( اردو بلیٹن نیوز ) لاہور میں خواجہ سراؤں کی دینی تعلیم کے لیے ایک اسلامی مدرسہ قائم کر دیا گیا ہے۔ اس مدرسے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مدرسہ ایک خواجہ سرا نے اپنے ہی گھر میں تعمیر کرایا ہے جن کا نام گورو شمع جان ہے۔

مزید تفصیلات کے مطابق گورو شمع جان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خواجہ سراء عام طور پر دین سے دور ہوتے ہیں۔ میں بھی دین سے دور تھی۔ مجھے میرے گھر والوں نے اکیلا کر دیا تھا اور میں دین سے دور ہوتی چلی گئی۔ لیکن میرے دل میں دین کا شوق تھا۔ میں دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔

مسجد میں نماز پڑھنے جاتی تو لوگ مجھے وہاں سے باہر نکال دیتے اور کہتے تمہارا ادھر کیا کام؟ یہ جگہ صرف مردوں کے لیے ہے۔ تم ہماری نماز خراب کرتی ہو۔ اس طرح ان کا مذاق اڑایا جاتا اور ان کو دین سے دور کیا جاتا۔

گورو شمع جان نے مزید بتایا کہ دوسرے لوگوں کی طرح ہم بھی مسلمان ہیں۔ دینی تعلیم حاصل کرنا ہمارت بھی حق ہے۔ اس لیے ہم دین سے دور نہیں رہ سکتے۔

میں مولانا طارق جمیل سے بہت متاثر تھی۔ وہ ہمیشہ نیکی اور بھلائی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی نفرت کا درس نہیں دیا۔ ان کے بیانات سے متاثر ہو کر میں دین کی طرف راغب ہوئی اور میرا رجحان بڑھتا گیا۔ اس طرح میں اسلام کے قریب ہوئی۔

گھر میں مدرسہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ تمام خواجہ سرا ادھرآ کر دینی تعلیم سے ررشناس ہو سکیں اور اپنی آخرت سنوار سکیں۔ ابھی مدرسے میں 13 خواجہ سرا زیر تعلیم ہیں لیکن رمضان المبارک میں یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔ انہوں نے ایک قاری صاحب کو رکھا ہوا ہے جو ان کو قرآن پاک پڑھاتے ہیں۔

لندن میں ایک ہی گھر کے سات افراد نے ایک ساتھ ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر اجتماعی خود کشی کر لی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

five × 4 =