لندن میں ایک ہی گھر کے سات افراد نے ایک ساتھ ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر اجتماعی خود کشی کر لی۔

لندن میں ایک ہی گھر کے سات افراد نے ایک ساتھ ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر اجتماعی خود کشی کر لی۔

زرائع ( اردو بلیٹن نیوز ) لندن میں ہی ایک گھر کے سات افراد نے اجتماعی خود کشی کی ہے۔ یہ سب افراد ایک رہائشی عمارت کی ساتویں منزل پر رہتے تھے۔ سب نے ایک ساتھ چھلانگ لگائی اور موت کی نیند سو گئے۔ صرف ایک آٹھ سالہ بچہ زندہ بچہ ہے لیکن وہ بھی ابھی تک کومہ میں ہے۔

خاندان کے افراد میں ایک اکتالیس سالہ مرد, اس کی چالیس سالہ بیوی, اس کی دو بہنیں, دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ خود کشی کے بعد سب افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ صرف ایک آٹھ سالہ بچہ زندہ بچہ ہے جو ابھی کومہ میں ہے۔

پولیس ابھی تک خودکشی کی وجہ معلوم نہیں کر سکی۔ تاہم یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ خودکشی کی وجہ غلط نظریات اور غلط زہن سازی ہو سکتی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ اہم کرونا وائرس کا خوف ہے۔ اس خاندان نے دو سالوں سے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا تھا۔ کسی سے ملنا ملانا نہیں تھا اور نہ ہی کہیں آنا جانا تھا۔

بچے بھی سکول نہیں جاتے تھے۔ صرف ایک عورت گھر سے باہر جاتی تھی۔ کام کرتی تھی اور سامان وغیرہ بھی لے آتی تھی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ خاندان کرونا وائرس کے خوف میں مبتلاء تھا اس لیے انہوں نے اجتماعی خود کشی کر لی۔

جارجیا کی عورت نے چوبیس سال کی عمر میں بائیس بچے پیدا کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

5 × five =