پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد، حکومت کا جلد ہی گیس ٹیرف میں 40-50 فیصد اضافے پر غور۔

پٹرولیم مصنوعات میں بڑے اضافے کے بعد، حکومت کا جلد ہی گیس ٹیرف میں 40-50 فیصد اضافے پر غور۔

پٹرولیم مصنوعات سے سبسڈی ہٹانے کے بعد حکومت کا 6 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی (آئی ایم ایف) پروگرام کو بحال کرنے کے لئے گیس ٹیرف میں 40-50 فیصد تک اضافے کا امکان۔

ذرائع نے مطابق ٹیرف میں اضافے کا سلسلہ یکم جولائی 2022 سے نافذ العمل ہوگا۔ مزید کہا کہ سوئی گیس کی فراہمی کی ذمہ دار دونوں کمپنیوں کو “پچھلے سالوں میں ایک ساتھ 550 ارب روپے کے بھاری نقصانات” کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزارت توانائی کے عہدیدار نے بتایا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو 350 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو بنیادی طور پرگیس ٹیرف میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے 200 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے جو کہ وقت کی ضرورت تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب سے آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق ترمیم شدہ اوگرا قانون گیس ٹیرف پر عمل درآمد کرے گا۔

آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ سال 2022-23 سے دونوں گیس کمپنیوں کے لئے مزید کوئی نقصان نہ ہو اس لیے سے ٹیرف اور ترمیم شدہ اوگرا قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

موجودہ حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہی ہے،عمران خان.

اپنا تبصرہ بھیجیں

seventeen − 10 =