وٹس ایپ پر دل بھیجنے پر جرمانہ اور سزا

وٹس ایپ پر دل بھیجنے پر جرمانہ اور سزا
ذرائع کے مطابق سعودی اینٹی فراڈ ایسوسی ایشن کے رکن کا کہنا ہے کہ دل والا ایموجی دنیا بھر میں لوگ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اگر کوئی شخص ایسا کرے گا اور وہ قصور وار پایا گیا تو اس صورت میں اس کو ایک لاکھ ریال جرمانے کے ساتھ ساتھ دو سے پانچ سال تک کی قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے .

جبکہ یہ جرم دوبارہ کرنے کی صورت میں جرمانہ 3لاکھ ریال اور 5سال تک سزا بڑھ جائے گی۔ ایک لاکھ سعودی ریال کو اگر پاکستانی رقم کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ آج کے کرنسی ریٹ کے حساب سے 4671411(46لاکھ اکہتر ہزار چار سو گیارہ)روپے بنتے ہیں۔

سعودی اینٹی فراڈ ایسوسی ایشن کے مطابق دل والا ایموجی بھیجنا ہراسانی کے جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔اگر موصول ہونے والے صارف کی جانب سے ایموجی بھیجنے والے صارف کے خلاف کاروائی کی شکایت ملے تو آن لائن چیٹس کے دوران ایموجی اور تصاویر استعمال کرنے کا یہ سلسلہ آن لائن ہراسانی کے جرم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

اکثر لوگ اپنے موبائلز کے ذریعے بھیجئے گئے میسجز یا واٹس ایپ میسجز کو ایک محفوظ طریقہ سمجھتے ہیں لیکن یاد رہے کہ سوشل میڈیا ایک غیر محفوظ پلیٹ فارم ہے اور آپ کا کسی بھی صارف یا شخص کی رضا مندی لئے بغیر کسی کے ساتھ بھی نامناسب گفتگوآپ کو بہت سے مقدمات میں پھنسا سکتا ہے۔(وٹس ایپ)

کرپٹو کرنسی کاروبار: پاکستانیوں کو ایک سال میں 20ارب کا جھٹکا.

اپنا تبصرہ بھیجیں

8 + 10 =