خیبر پختونخوا حکومت نے سیلاب سے متاثرہ سوات میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

خیبرپختونخوا حکومت نے سوات میں ریکارڈ بارشوں کے بعد ضلع میں شدید سیلاب سے ہونے والی تباہی کے پیمانے پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوات، دیر اور چترال کے پہاڑی علاقوں سے متاثرہ خاندانوں کو بچانے میں صوبائی حکام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے امدادی محکمے کے مطابق سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ایمرجنسی 30 اگست تک نافذ رہے گی.

خیبرپختونخواے وزیراعلیٰ محمود خان نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کے علاوہ متاثرین کو گروسری، پکا ہوا کھانا اور دیگر اشیاء کی بروقت فراہمی کریں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوات میں مٹہ، سکھرا اور لالکو میں مواصلاتی پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مینگورہ بائی پاس پر متعدد ہوٹل اور ریسٹورنٹس زیر آب آگئے ہیں اور سیلاب کے باعث سوات مینگورہ بائی پاس روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس دوران نوشہرہ میں سیلاب کی وجہ سے سرکاری اور نجی اسکول دو دن کے لیے بند ہیں۔

کالام میں بارش اور سیلاب کے باعث ایک نیا ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

بلوچستان میں سیلاب نے ‘کنا یاری’ سے شہرت پانے والے وہاب علی بگٹی کا گھر تباہ کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

20 − ten =