وفاقی حکومت کا آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مارجن میں اضافے کا فیصلہ ، عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔

وفاقی حکومت کا آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے مارجن میں اضافے کا فیصلہ ، عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آئل مارکیٹنگ کمپنیز (OMCs) کے مارجن میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تیل کمپنیوں کے لیے مارجن میں 63.04 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر او ایم سی کے لیے مارجن 2.32 روپے فی لیٹر بڑھا کر 6 روپے کر دیا جائے گا۔ “فی الحال پٹرول اور ڈیزل پر OMCs کا مارجن 3.68 روپے فی لیٹر ہے” .

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعرات کو آئل مارکیٹنگ کمپنیز (OMCs) اور پیٹرولیم ڈیلرز کے سیلز اور ڈسٹری بیوشن مارجن میں اضافے کی منظوری دی۔

وزارت خزانہ کے ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں پٹرولیم ڈیلرز او ایم سیز کے سیلز مارجن میں 7 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور پیٹرولیم ڈیلرز اپنی سیلز اور ڈسٹری بیوشن مارجن میں تقریباً 6 فیصد اضافے کے لیے کاروبار کرنے کی لاگت اور مہنگائی میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بجلی کی قیمت اکتوبر تک 24۰8 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائیگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں

four + twenty =