دنیا کے بیشتر ممالک کے روکنے کے باوجود روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔

دنیا کے بیشتر ممالک کے روکنے کے باوجود روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔دارالحکومت کیف میں متعدد دھماکے
یوکرینی وزیرخارجہ دیمترو کیلیبا کی ٹویٹ کے مطابق روسی صدرولادی میرپیوٹن نے یوکرین پرپوری قوت سے حملہ کردیا ہے۔

روس نے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں پرحملے کئے ہیں۔ دنیا صدرپیوٹن کوروکے۔ یہ عملی اقدامات کرنے کا وقت ہے۔ہم ہرقیمت پراپنے ملک کا دفاع کریں گے اورکامیاب ہوں گے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کی صبح ٹیلی وژن پر اپنے ایک مختصر بیان میں حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہےاور اسی اعلان کے بعد روسی افواج نے یوکرین کے کئی شہروں پر میزائل داغے ہیں جبکہ یوکرین کے جنوبی ساحل کے قریب فوجی بھی اتارے گئے ہیں۔

اس کے ردعمل میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رات گئے جذباتی انداز میں روس سے اپیل کی کہ وہ یورپ میں اس بڑی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔روس کے شہریوں سے یوکرین کے بارے میں غلط بیانی کی گئی ہے اور یہ کہ جنگ کا امکان بھی آپ ہی پر منحصر ہے۔یہ جنگ کون روک سکتا ہے؟ ظاہر ہے لوگ ہی۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ آپ میں ہی موجود ہیں۔

جبکہ اقوام متحدہ میں یوکرین کے نمائندےکا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ ان کے ملک کے خلاف اس جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سکیورٹی کونسل کے ایمرجنسی اجلاس میں رو س سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر پوتن! اپنے فوجیوں کو یوکرین پر حملے سے روکیں امن کو ایک موقع دیں۔ بہت سے لوگ اس پہلے ہی اموات کا شکار ہو چکے ہیں۔

جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات ہی کو کہا کہ صدر پوتن کے اقدامات ٹھوس جواب کے متقاضی ہیں اور اسی لیے ہم روس پر مکمل طور پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔بائیڈن نے روس کے ملٹری بینک، انویسٹمنٹ کمپنی وی ای بی اور روس کے دولت مند افراد کے خلاف مکمل بلاکنگ پابندیوں کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم روس کو مغرب کی جانب سے ہونے والی فناسنگ کا سلسلہ منقطع کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت کیف، ڈونباس، اڈیسہ ماریوپول سمیت یوکرین کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی زوردار آوازیں آرہی ہیں اور روسی فوج نے یوکرین کے فوجی اڈوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری.

اپنا تبصرہ بھیجیں

8 + twelve =