الجزیرہ رپورٹ:موسم نے خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کر دیا.

الجزیرہ رپورٹ:موسم نے خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کر دیا.یہ واقعہ ہے زمبابوے کا جہاں ایک خبر رساں ادارے الجزیرہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی جسم فروشی کے حوالے سے مختلف لڑکیوں کا انٹرویو کیا ہے۔

جس میں اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں کے خاندان والے کھیتی باڑی کے پیشے سے منسلک ہیں اور اسی کھیتی باڑی کی بدولت ہی وہ روزی روٹی کماتے ہیں چونکہ اس سال خشک سالی کی بناء پر ہم فاقے کرنے پر مجبور ہیں اس لئے ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں تھا اور ہم نے اس راہ کو چنا۔

ایک لڑکی نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ درجنوں خواتین جسم فروشی کا دھندا کرنے کے لئے دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف آرہی ہیں۔ایک لڑکی نے بتایا کہ ہمیں زیادہ تر اندھیرے کا انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں اپنے گاہکوں کی شناخت کو چھپانا پڑتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مرد شادی شدہ ہوتے ہیں یا پھر وہ عزت دار لوگ ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو‘کیونکہ اگر ان کی شناخت ظاہر کریں گی تو پھر وہ ہمارے مستقل گاہک نہیں رہیں گے۔

اس انٹرویو کے دوران جہاں دیگر راز عیاں ہوئے وہیں کچھ لڑکیوں نے یہ بھی بتایا کہ شہر میں خواتین کا فائدہ اٹھانے کے لئے بہت سے گروہ سرگرم ہیں لیکن ہم یہاں اپنی اور اپنے خاندان کی بھوک مٹانے کے لئے مجبوری کے تحت آئی ہیں۔کچھ لڑکیوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے والدین سے جھوٹ بول کر آئی ہیں کہ وہ شہر میں نوکری کرنے جارہی ہیں۔

اس حوالے سے زمبابوے کے ایک گاؤں کے سربراہ کا انٹرویو لیا گیا تو اس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بچوں کا مستقبل تاریک ہورہا ہے۔لڑکے جرائم کی دنیا میں جارہے ہیں جبکہ لڑکیاں جسم فروشی کرنے پر مجبور ہیں۔ہمیں اس حوالے سے کچھ فیصلہ کرنے ہو گا تاکہ مستقبل کی نسل اس بربادی سے بچ سکے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات،تیاریاں مکمل کرلیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × 4 =