وزیر خارجہ بلاول کا کہنا ہے کہ ‘تباہ کن’ سیلاب کے بعد بے پناہ مدد کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو “زبردست” سیلاب سے نمٹنے کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے، ملک کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جیسے مالیاتی ادارے معاشی نقصان کو مدنظر رکھیں گے۔

مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے ملک کے شمال اور جنوب دونوں جگہوں پر سیلاب سے بے پناہ تباہی رونما ہویٔ ، جس سے 30 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے اس کا اثر مجموعی اقتصادی صورتحال پر پڑے گا۔

جنوبی ایشیائی قوم پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھی، اسے بلند افراط زر، کرنسی کی قدر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا۔

آئی ایم ایف بورڈ اس ہفتے فیصلہ کرے گا کہ آیا پاکستان کے بیل آؤٹ پروگرام کی ساتویں اور آٹھویں قسط کے حصے کے طور پر 1.2 بلین ڈالر جاری کیے جائیں.

وزیر خارجہ بلاول نے کہا کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان معاہدہ ہونے کے باعث بورڈ کی جانب سے ریلیز کی منظوری متوقع ہے اور انہیں امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں آئی ایم ایف سیلاب کے اثرات کو تسلیم کر لے گا۔

انہوں نے کہا، ” میں توقع کروں گا کہ نہ صرف آئی ایم ایف، بلکہ عالمی برادری اور بین الاقوامی ایجنسیاں تباہی کی سطح کو صحیح معنوں میں سمجھیں گی۔”

وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی چیف منسٹر فلڈ ریلیف فنڈ کا اجراء کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

two + 9 =