بُلھے شاہ سترہویں صدی کے عظیم فلسفی اور صوفی شاعر۔ (Bulleh Shah)

جب بھی صوفی کلام ،تصوف اور پنجابی شاعری کا ذکر آتا ہے تو ایک عظیم ہستی کا نام ذہن میں ضرور آتا ہے جو کہ Bulleh Shah ہیں۔

آپ کا اصلی نام سید عبداللہ شاہ تھا۔لیکن مقبول طور پر آپ bulleh shah کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپکی پیدائش سن ۱۶۸۰میں بہاولپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں اوچ شریف میں ہوی۔

آپ کا تعلق سید گھرانے سے تھا جنہوں نےبارہویں صدی میں ایران سے ہندوستان ہجرت کی۔ بچپن ہی سے Bulleh Shah کی پرورش ایک مذہبی گھرانے میں ہوی۔

آپ کے والد محترم شاہ محمود درویش عربی اور فارسی زبان میں مہارت رکھتے تھے۔اور قرآن پاک کے مشہور عالم تھے۔آپکے والد ایک پرہیزگار اور روحانیت کی طرف مرغوب انسان تھے اور لوگ انہیں خدا سے عقیدت اور محبت کی وجہ سےجانتے تھے، اور اسی کے تحت انہوں نے بُلھے شاہ اور ان کی بہن کی تربیت کی۔

بُلھے شاہ نے ابتدای تعلیم اپنے والد کے مدرسے سے حاصل کی،لیکن ان کے خیالات اورمزاج بالکل مختلف تھے۔انہیں حقیقی اندرونی احساس کی تلاش تھی ۔ اسی اندرونی بے چینی اور بے سکونی کی جستجو میں ان کی زندگی گزری۔

bulleh shah

بلھا کیہ جاناں میں کون
نہ میں مومن وچ مسیت آں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں
نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسٰی، نہ فرعون

اور جب وہ اپنی ذات کی گہرائیوں تک پہنچ گئے تو تصوف کے ان پہلوؤں سے اجاگر ہوئے جہاں وہ اپنے حقیقی محبوب (اللہ)کے مل کر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اورتصوف کی وہ بنیاد رکھتے ہیں جو آنے والی تمام نسلوں کیلیے مشعل راہ ہے۔

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
تیرے عشق نے ڈیرا، میرے اندر کیتا
بھر کے زہر پیالہ، میں تاں آپے پیتا
جھبدے بوہڑیں وے طبیبا، نہیں تاں میں مر گئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

انہیں شاہ عنایت قادری کی صورت میں اپنے اصل روحانی استاد ملے،جو کہ خود ایک ممتاز صوفی بزرگ تھے۔ان کا تعلق پنجاب کے آرائیں قبیلےسے تھاجسے اس زمانے میں نچلی ذات سمجھا جاتا تھا۔

Bulleh Shah کا شاہ عنایت کو اپنا مرشد قرار دینا،ذات پات کے فرسودہ نظام کی نفی تھی۔ شاہ عنایت ہی کی صورت میں انہیں اپنا مسیحا اور مرشدملا۔اسی سلسلے میںbulleh shah کی اپنے مرشداور استاد، شاہ عنایت کیلیے یہ کافی مشہور ہے۔

جد میں سبق عشق دا پڑھیا
دریا ویکھ وحدت دے وریا
گھماں گھاریاں دے وچ آریا
شاہ عنایت لایا پار

آپ ہی کی تعلیمات کی روشنی اور صحبت نےبُلھے شاہ کو تصوف کی گہرائیوں سے روشناس کروایا۔اسی عقیدت اور خلوص کی بناء پر آپ ان کے مرشد کہلائے۔

Bulleh shah انسان دوست

بُلھے شاہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔اور شایداسی وجہ سے آپ کے دل میں معاشرے کے نچلے طبقے کیلیےایک خاص درد تھا ۔ایسے لوگ جن کے پاس خدا کے سوا کو ی نہ تھا۔آپ اوچ شریف سے ہجرت کر کے قصور پہنچ گئے۔یہ وہ دور تھا کہ جب اس خطے پر افغانیوں کی حکومت تھی۔

چونکہ کے بُلھے شاہ کے کلام اور خیالات کا بنیادی جزو مظلوم اورپست طبقے کا درد اور انسانیت سے پیار تھا۔ دیگر قابض لوگوں کی طرح انہیں bulleh shah جیسے صوفی اور شاعر کی موجودگی ناگوار گزری۔

Bulleh Shah کو ظالم اور قابض حکمرانوں کے بنیادی اصولوں سے اختلاف تھا۔ظالموں نے ان پر کفر کے فتوے بھی لگائےلیکن سب لاحاصل رہا۔

صوفی بزرگbulleh shah عام انسان کےحقوق کے حقیقی علمبردار تھے۔ انسانیت کیلیے ان کے تین مطالبات آج بھی مشہورہیں ،جنہیں بعد میں مغربی فلسسفیوں نے بھی مفروض کیا۔ تین بنیادی نقطے، روٹی،کپڑا اور مکان تھے۔

جب نادر شاہ نے پنجاب پر حملہ کیا اور لاکھوں لوگوں کا قتل کیا ،اس خونریزی کو دیکھ کر بلھا کو گہرا صدمہ پہنچا کیونکہ وہ دکھی انسانیت کادرد اپنے دل میں رکھتے تھے اور وہ انکی زمین اور ان کے اپنے لوگ تھے۔

اسی طرح جب احمد شاہ عبدالی نے قابض ہو کر ظلم
ڈھائے bulleh shahنے اپنے رنج و ملال کا اظہار کچھ اس طرح کیا۔

کھادا پیتا لاہے دا
باقی احمد شاہ ھے دا

اپنی ذات کی نفی کر کے ،خود کو اپنے خالق کی رضا میں راضی رکھنے اور انسانیت کا درد اپنے دل میں رکھنے سے bulleh shahنے اللہ کا قرب حاصل کیا۔اور یہی ان کے کلام کا موضوع ہے۔

مسجد ڈھادے مندر ڈھا دے
ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں
رب! دلاں وچ رہندا

Bulleh shah کی شاعری

ایران،عرب اور ہندوستان میں صوفی اور اولیاء کرام تو موجود تھے لیکن ان میں سے شاعر کم ہی تھے۔آپ کے خیالات کے
اظہار کا بنیادی طریقہ شاعری تھی۔ آپ کے خاص طرز تحریر کو “کافی” کہتے ہیں۔جو کہ پنجابی صوفی اور سکھ گرو استعمال کرتے ہیں۔

بُلھے شاہ کی شاعری تصوف کے چار مراحل کے ذریعے ان کے صوفیانہ روحانی سفر کو نمایاں کرتی ہے: شریعت(راستہ)، طریقت (پیروی)، حقیت (سچائی) اور معرفت (اتحاد)۔

انہیں پنجاب کا سب سے بڑا صوفیانہ شاعر سمجھا جاتاہے۔ ان کے کلام پر لٹریچر کے طالبعلموں نے پی۔ایچ۔ڈی تھیسس پیشکی اور خوب تحقیق بھی کی۔آپکے کلام کو جدت دے کر آج بھی سنا اورپڑھا جاتا ہے۔

صوفی اور ایک باغی

Bulleh shahنے مذہب کے نام پر رائج فرسودہ رسم ورواج اور ملاوؤں کی قدامت پسندی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔آپ نے اسسوچ کو رد کیا کہ صرف جنت کےلالچ اور دوزخ کےخوف سے عبادتیں کرنے سے حقیقی معنوں میں اللہ کا قرب اور دلی سکونحاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم صرف اللہ کی خاطر اس کی عبادت کریں۔

بُلھے شاہ نے زندگی بھر اس بات کی تلقین دی کہ اس دنیا میں تم اور میں کی کویٔ گنجائش نہیں۔ ذات پات،رنگ نسل،مسلکاور مذہب کے فرق کو بےبنیاد قرار دیا۔اور اس سوچ کو اپنے عمل اور کلام سے استوار کیا کہ ہم سب ایک ہیں اور ایک ہی مذب،ذات اور ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام محبت ہے۔

مکے گیاں گل مک دی نئیں
پاویں سو سو جمعے پڑھ آئیں
گنگا گیاں گل مک دی نئیں
غوطے کھائیں پاویں سو سو
گیا گایاں گل مک دی نئیں
پانڈ سو پڑھائیں پاویں سو سو
بلھے شاہ گل تائیوں مک دی
جدوں مینوں دلوں گنوائیں

وہ خدا کی تلاش اور اس تک پہنچنے کے تمام رائج طریقوں کی مذمت کرتے ہیں۔Bulleh Shahکے مطابق اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر اور اپنے باطن کو پاکیزہ کر کے ہی ہم خدا سے تعلق استوار کرسکتے ہیں کیونکہ رب تو دلوں میں بستا ہے۔

بُلھے شاہ کے فلسفے کے مطابق ظاہری عبادات بے معنی اور کھوکلی ہیں جب تک آپ کا باطن بھی آپ کے ظاہر جیسا نہ ہوجائے۔واعظ،مسجد کاامام بظاہر نیک اور پرہیزگار ہوں لیکن ان کا نفس ابھی بھی ان پرحکمرانی کر رہا ہوتا ہے ۔

ایسے ہی لوگوں کیلیے بلھے شاہ نے فرمایا،

علموں بس کریں او یار
پڑھ پڑھ لکھ لکھ لاویں ڈھیر
ڈھیر کتاباں چار چوپھیر
گِردے چانن وچ انھیر
پُچھّو: “راہ؟“ تے خبر نہ سار
پڑھ پڑھ شیخ مشائخ ہویا
بھر بھر پیٹ نیندر بھر سویا
جاندی وار نین بھر رویا
ڈُبّا وچ، ارار نہ پار
پڑھ پڑھ شیخ مشائخ کہاویں
اُلٹے مَسلے گھروں بناویں
بے عِلماں نوں لُٹ لُٹ کھاویں
جھوٹے سچے کریں اقرار
پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں
اُچیاں بانگاں، چانگاں ماریں

الف ،ایک نقطے کا فلسفہ

Bulleh shah کے کلام میں ایک کے ہندسے کا ذکر جابجا ملتا ہے۔ یہی ایک نقطہ ہر چیز کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی ۔ بلھےشاہ ہمیں ایک نقطے کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جس میں تمام علم کا نچوڑ ہے،اگر انسان اس ایک نقطے کو سمجھ لے تو اسےکہیں اور جانے کی ضرورت نہیں اسی طرح ہم عشق حقیقی حاصل کر سکتے ہیں۔یہ ایک نقطہ ذات الہی ہے۔

اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے
پھڑ نقطہ، چھوڑ حِساباں نوں
چھڈ دوزخ، گور عذاباں نوں
کر بند، کُفر دیاں باباں نوں
کر صاف دِلے دیاں خواباں نوں
گل ایسے گھر وِچ ڈُھکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

bulleh shah کا انتقال سن ۱۷۵۷میں شہر قصور میں ہوا۔اس وقت ملاّ اور حکومت انکے اس قدر خلاف تھے کہ دونوں نے ساتھمل کر bulleh shah کی نمازجنازہ تک پڑھانا تک گوارا نہ کی۔

آپکی آخری رسومات ویرانے میں ،آپکے عقیدت مندوں نے پڑھایہر سال شوال کے مہینے میں آپ کاعرس قصور میں واقع آپ کے مزار پر منایا جاتا ہے۔

زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنےوالےآپ کے چاہنے والے بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں اور تین دن تک آپ کا عرس منا کر اس عظیم صوفی بزرگ کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں جس کا پیغام محبت اور انسانیت کا احساس تھا۔لنگر کا بھی اہتمام ہوتا ہے جسےغریب اورنادار لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

Maira Salman

The Alchemist

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × 3 =