چندر کوٹ کی پُلی

تحریر:افتخار محبوب چودھری

مائی زینتے حسبِ معمول آج بھی اپنے بیٹے کا انتظار کرنے کے لئے چندر کوٹ کی پُلی کی طرف رواں دواں تھی۔اس کا بیٹا صفدر ایک دن کا کہہ کر شہر گیا تھا مگر واپس لوٹا نہیں۔۔۔۔وہ شہر میں ایک حادثے کا شکار ہو کر مر گیا اور اس کی لاش جب گاؤں میں آئی تو کہرام مچ گیا۔ مائی زینتے اپنے اکلوتے اور کڑیل جوان بیٹے کے بے جان جسم سے لپٹ لپٹ کر خوب دھاڑیں ما ر مار کر روئی تھی۔۔۔لیکن جوان بیٹے کی موت کا دکھ اس سے برداشت نہ ہوا اور وہ حواس باختہ ہو کر رہ گئی۔اس کے دل و دماغ پر یہ بات نقش سی ہو کر رہ گئی تھی کہ اس کا بیٹا شہر گیا ہوا ہے اور مانانوالہ سے آ نے والی بڑی سڑک کی لاری سے اُس نے چندر کوٹ کی پُلی پر اترنا ہے۔لوگ اسے بہتیرا سمجھاتے کہ مائی تمہارا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں،تم کیوں روزانہ گاؤں سے اتنا پینڈا کرکے بلا مقصد پُلی تک جاتی ہو اور تھک کر چُور ہو جاتی ہو،لیکن مائی زینتے کسی کی بات نہ سنتی اور یہ کہتی ہوئی گھر سے چل پڑتی۔۔۔ ”نہیں میرا بیٹا پُلی پر میرا انتظار کر رہا ہو گا کہ ماں آ جائے تو وہ اس کے ساتھ ہی گاؤں کی طرف جائے”۔مائی بڑھاپے کی وجہ سے اپنی دوہری کمر اور نخیف و نزار منحنی سے جسم اور ٹیڑھی میڑھی لاٹھی کو کچی زمین پر تقریباً گھسیٹتی ہوئی اپنی منزل کی طرف یوں چل پڑتی جیسے واقعی اس کا بیٹا پُلی پر اس کا انتظار کر رہا ہو۔بیٹے کا غم اسے کھا گیا تھا۔اس کا اثر نہ صرف اس کے دل و دماغ پر ہوا تھا بلکہ وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔اب یہ وہ ماسی زینتے نہیں رہی تھی جو بالکل صحتمند اور خوش و خرم تھی اور بڑے چاؤ کے ساتھ لوگوں کو بتاتی پھرتی تھی کہ ”دیکھنا کیسا گج وج کر اور سگنوں کے ساتھ ویاہوں گی اپنے چھبے کو میں۔۔۔۔ساری ریجھیں پوری کروں گی۔ وہ اپنے مامے کی لڑکی نسرین کو پسند کرتا ہے اسی کے ساتھ ویاہ کروں گی اس کا۔خوبصورت،اُچی لمی اور سگھڑ ہے اور سارے کام کاج بڑی اچھی طرح سے کر لیتی ہے۔اللہ وہ دن جلدی لائے تاکہ میں بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں،یہ ویہڑہ آباد ہو جائے اور میں سُکھ کی نیند سوؤں”۔۔۔۔یوں اتنی باتیں سوچتے ہوئے وہ چلتی جاتی کچے اور بل کھاتے ہوئے گرد آلود راستے پر، دونوں جانب کٹی ہوئی فصلوں کے انبار اور گنے کے کھیت تھے۔یا کبھی کبھار مانانوالہ سے ننکانہ صاحب جانے والی کسی لاری  کے ہارن کی چیخ سنائی دے جاتی جو خاموشی اور گہرے سکوت کا سینہ چیرتی ہوئی کہیں دوُر گم ہو جاتی۔اورپھروہی ویرانی اور اداسی چھا جاتی۔آ جا کے ننکانہ صاحب کے ضلع میں ایک چندر کوٹ ہی کوئی کام کی جگہ ہے۔چندر کوٹ کی نہر کا پانی پینے کے لئے بہت اچھا خیال کیا جاتا ہے۔ننکانہ صاحب شہر کی گلیوں میں چھوٹے چھوٹے کنٹینر مذکورہ نہر کا پانی فروخت کرتے ہیں،ورنہ اس کے علاوہ پورے علاقے کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ ایک فراموش شدہ خشک برساتی نالے پر ایک ٹوٹی پھوٹی برائے نام سی پُلیہ ہے جس کے صرف چار پانچ ڈنڈے اور ٹوٹے ہوئے دو تین تختے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کبھی یہاں بھی ایک پُل ہوا کرتا تھا۔مانانوالہ سے آنے والی لاری کسی سواری کو اتارنے یا چڑھانے کے لئے اس پُلی پر چاہے تھوڑی دیر کے لئے سہی رکتی ضرورہے۔

مائی زینتے بیٹے کے بعد بالکل اکیلی رہ گئی تھی اس کی بیٹی بھی کوئی نہیں تھی جو اس کی دیکھ بھال کرتی۔خود سے مائی اپنا کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔ایک چار دیواری کی شکل میں حویلی تھی جس کا صحن کچا تھا۔دھریک کے دو درخت تھے جن کے ساتھ دو بکریاں بندھی رہتی تھیں جو سارا دن ممیاتی رہتیں اور مائی ان سے مخاطب ہو کر کہتی۔۔۔”اچھا اچھا مجھے پتہ ہے تمہیں بھوک لگی ہے۔” پھر اماں زینتے ایک ٹوٹی ہوئی جھلنگا چارپائی کے نیچے پڑے ہوئے شٹالے میں سے کچھ نکال کر ان کے آگے ڈال دیتی۔ایک کچا کوٹھا جس کا کواڑ ٹوٹا ہوا تھا۔بڑے بڑے پایوں والی لیکن بغیر ادوائن کے ڈھیلی ڈھالی سی چارپائی، ایک میلا کچیلا اور سطح مرتفع کی عکاسی کرنے والا ٹرنک،چند ادھورے سے برتن اور ایک بھینس،جس کا دودھ بیچ کر مائی اپنی گذر اوقات کرتی تھی۔مائی تو اپنا کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔وہ تو بھلا ہو ساتھ والی ہمسائی پروین کا جو چولہا جلا کر امّاں زینتے کو صبح اور شام کو کھانا پکا کر دے جاتی تھی،حالانکہ اس کے اپنے تین بچّے تھے جن کی اسے دیکھ بھال کرنا ہوتی تھی۔وہ مائی کے کپڑے بھی دھو دیتی تھی۔یوں مائی کو بیٹی کی کمی اتنی زیادہ محسوس نہیں ہوتی تھی۔پروین کا گھر والا انور بڑی باقاعدگی سے بھینس کا دودھ دھو دیتا اور اسے بیچ کر امّاں زینتے کی ضرورت کی چیزیں اپنی بیوی سے پوچھ کر بازار سے لا دیتا۔اس طرح دونوں امّاں کی خدمت کر کے جنّت کما رہے تھے۔

جب مائی زینتے کا گھبرو جوان بیٹا کھیتوں میں کام کرکے تھک جاتا تو دوپہر کو وہ اس کے لئے باسی روٹی،اچار، پیاز اور لسّی کا کُجا لے کر جاتی اور اسے آواز دیتی۔۔”آ جا پُتر روٹی کھا لے،آج میں تیرے لئے لسوڑے  اور ڈیلوں کا اچار بھی لے کر آئی ہوں،جو تجھے بڑا پسند ہے۔”اپنی ماں کو دیکھ کر چھبے کو بڑی خوشی ہوتی اور وہ بڑے چاؤ سے ہاتھ دھو کر اپنی دھوتی کو سمیٹتا ہوا اپنی ماں کے پاس چارپائی پر بیٹھ جاتا۔مائی اسے پنکھا جھلتی جاتی اور وہ روٹی کھاتا رہتا۔جب وہ لسّی کا کُجا ایک ہی سانس میں پی کر ڈکار لیتا اور اپنی گھنی موچھوں کو تاؤ دیتا تو مائی خوشی سے پھولی نہ سماتی۔

امّاں زینتے اکثر اپنا ٹوٹا ہوا ٹرنک کھول کر پھاتاں اور زہراں،جوکہ اس کی راز دار اور پکّی سہیلیاں تھیں،کو ایک ایک کرکے جوڑے دکھاتی۔۔۔”دیکھو میں نے کتنی ریجھ کے ساتھ چھبے کی دلہن کے لئے  شاندار جوڑے بنا رکھے ہیں۔ربّا وہ دن جلدی لا جب میرا چھبا گھوڑی چڑھے اور اپنی بوڑھی ماں کے کلیجے میں ٹھنڈ ڈال دے۔سارے گاؤں کو بلاؤں گی اپنے بیٹے کے ویاہ پر ذرا تم دیکھنا۔۔۔”

مائی زینتے یہ ساری باتیں سوچتے اور اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے اپنی منزلِ مقصود یعنی پُلی کے پاس پہنچ جاتی اور تھکن سے چوُر ہونے کے باوجود کڑکڑاتے گھٹنوں اور سوکھی ٹانگوں کے ساتھ پُلی کے ساتھ بنی ایک شکستہ منڈیر پر یوں بیٹھ جاتی، جیسے اب کبھی نہیں اُٹھے گی۔ اس پُلی کے پاس لکڑی    کے ٹوٹے پھوٹے چند تختوں سے بنا ایک کھنڈر نما کھوکھا تھا جس کے کواڑ بھی موجود نہیں تھے۔یہاں دودھی شہر میں دودھ بھیجنے کے لئے اپنے برتن رکھتے اور شہر کو جانے والی لاری کی چھت پر انہیں رکھ کر بری الذمہ ہو جاتے اور پھر جب بس شام کے وقت شہر سے لوٹتی تو یہی خالی برتن یہاں اتار دیتی۔ اس سارے سکوت میں دوُر سے آنے والی پیٹر انجن کی کُو کُو تھی جس سے امّاں مانوس تھی اور وہ اسے اچھی لگتی تھی۔آج بھی وہ معمول کے مطابق وہاں آکر بیٹھ گئی اور اپنے بیٹے کا انتظار کرنے لگی۔تھوڑی دیر بعد اسے گاؤں کی طرف سے بل کھاتا اور دھوڑ اڑاتا ایک نکتہ سا دکھائی دیا۔آہستہ آہستہ وہ نکتہ بڑا ہوتا گیا اور امّاں نے اپنی آنکھوں پرذرا زور دے کر دیکھا تو وہ منّاں کمہار تھا جو اپنی گدھا گاڑی کو ہانکتا ہوا، جس کے چکّے ادھر اُدھر لڑھک رہے تھے،بڑی سڑک کی طرف بڑھ رہا تھا۔قریب آنے پر امّاں زینتے نے اس سے پوچھا۔۔۔”کہاں جارہے ہو؟”منّے نے جواب میں کہا۔۔۔”اوہ امّاں میں ننکانہ صاحب شہر جا رہا ہوں۔راستے میں کوٹ را میں تھوڑا سا کام ہے،اس کے بعد گاڑی کے پہیے ٹھیک کروانے کے لئے ایک دن ننکانہ صاحب رکوں گا”منّے کمہار نے احسان جتانے کے انداز میں کہا۔”دیکھنا بیٹا اگر وہاں میرا بیٹا چھبا نظر آئے تو اسے کہنا بیٹا تمہاری ماں تمہاری راہ تکتے تکتے پھاوا ہو گئی ہے،تم جلدی گھر پہنچو۔مجھے ڈر ہے کہیں لاری اسے آگے ننکانہ صاحب نہ لے گئی ہو”۔یہ کہتے ہوئے امّاں زینتے کی آنکھیں بھیگ گئیں۔آج پتہ نہیں مائی کچھ زیادہ ہی تھکن محسوس کر رہی تھی۔آخر کار وہ انتظار کرتے کرتے تھک گئی تو اس نے ایک سرد آہ بھری اور بوجھل اور ناتواں قدموں کے ساتھ بادل نخواستہ واپسی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی کبھی واپس نہ آنے کے لئے۔شام کے گہرے سائے اب لمبے ہوتے جا رہے تھے اور پرندے بھی اپنے گھروندوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔لگتا تھاآج مائی زینتے مایوس ہو گئی تھی۔وہ گھر جا کر اپنی چارپائی پر ڈھیر ہو گئی۔دوسرے دن صبح اس کی ہمسائی نے اسے آواز دی ”امّاں تمہارے لئے کھانا پکا دوں“۔۔۔مگر کوئی جواب نہ ملا۔پینو نے آگے بڑھ کر مائی کو ہلایا لیکن شاید اب وہ بھی اپنے بیٹے کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی تھی اور اس کی تلاش میں اس کے پیچھے چلی گئی تھی۔تھوڑی دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے گاؤں میں پھیل گئی کہ امّاں زینتے مر گئی ہے۔مائی زینتے کو فوت ہوئے کافی دن ہو گئے ہیں۔اب چندر کوٹ کی پُلی بالکل ویران پڑی ہے،لیکن امّاں کہیں دکھائی نہیں دیتی وہاں بیٹھی اپنے بیٹے کا انتظار کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

9 − 8 =