رانا ثناء اللہ کے خلاف گجرات میں دہشت گردی کا مقدمہ درج.

پولیس نے جمعرات کو وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف دہشت گردی اور حکومتی معاملات میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمہ گجرات کے تھانہ انڈسٹریل ایریا میں شہری نے درج کرایا۔

پہلی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق وزیر داخلہ نے سرکاری اہلکاروں کو ان کے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عدالت ان کی مدد نہیں کرے گی۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ثناء اللہ نے کہا کہ وہ [حکومت] ان ججوں کو گھیریں گے جو پی ٹی آئی کے ایجنڈے کی تشہیر کرنے جارہے ہیں۔

رپورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی ایک پرانی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘رانا ثناء اللہ کا بیان عدلیہ، چیف سیکریٹری اور دیگر حکومتی اہلکاروں کو دہشت زدہ کرنا اور انہیں اپنا کام کرنے نہیں دینا تھا تاکہ وہ اپنے عدالتی معاملات کو پورا نہ کرسکیں’۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وزیر کے بیان سے عدلیہ، حکام، پولیس، بیوروکریسی اور قوم میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

خبر سامنے آنے کے فوراً بعد مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما مونس الٰہی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’آپ عمران خان کے خلاف جھوٹے مقدمات بناتے ہیں، اب پاکستانی قوم نے آپ کے خلاف سچا مقدمہ درج کر وا دیا ہے‘۔

عدالت نے عطا تارڑ سمیت مسلم لیگ ن کے دیگر 11 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

four − two =