تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کو رہا کر دیا گیا۔

تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کو رہا کر دیا گیا۔

hafiz saad rizvi

تفصیلات کے مطابق ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور کی سینٹرل جیل کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

ترجمان ٹی ایل پی نے سعد رضوی کی رہائی کی تصدیق کی ۔

سعد رضوی کو حکومت اور ٹی ایل پی کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا۔

رہائی کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں کارکنان مسجد رحمت اللعالمین پہنچ گئے اور سعد رضوی کی آمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

سعد رضوی نے رہائی کے بعد اپنے والد خادم حسین رضوی کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی رہائی کی خبر ملتے ہی بڑی تعداد میں کارکن جماعت کے مرکز پہنچنا شروع ہو گئے اور لبیک یارسو ل اللہ کے نعرے لگاتے رہے ۔

سعد رضوی کی آمد پر کارکنوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے گرم جوشی سے استقبال کیا ۔

سعد رضوی کی رہائی اور استقبال کی وجہ سے چوک یتیم خانہ ملتان روڈ پرٹریفک کا نظام تعطل کا شکار ۔

ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی کو وفاقی نظر ثانی بورڈفیڈرل کے فیصلے سے مشروط کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت پنجاب حکومت ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سمیت دیگر کارکنوں کے خلاف 40 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت پنجاب نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر کارکنان کے خلاف 40 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا اور پنجاب حکومت کی جانب سے مقدمات واپس لینے سے متعلق اقدامات شروع کر دیے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں سعد رضوی اور دیگر افراد کے خلاف 20 وہ مقدمات واپس لیے جائیں گے جن کی سزا 3 سال یا 3 سال سے کم ہے اور دوسرے مرحلے میں 5 سال یا اس سے کم والے مقدمات واپس لیے جائیں گے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کے خلاف مقدمات کو قانونی طریقے سے دیکھا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں سعد رضوی اپنے والد مولانا خادم حسین رضوی مرحوم کے آج بروز جمعہ سے شروع ہونے والے عرس کی تقریبات میں شریک ہوں گے ،خادم حسین رضوی کا عرس 21 نومبر تک جاری رہے گا۔

ایف آئی آر (مقدمہ) کی تفتیش تبدیل کروانے کا طریقہ کار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ظاہر جعفر کے جارحانہ رویے پر جج کی وارننگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

three + 18 =