عمران پارٹی چیئرمین کیوں نہیں رہ سکتے؟ نااہلی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ.

لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجدمحمود سیٹھی نے عمران خان کی نااہلی کےلیے محمد آفاق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائردرخواست پر سماعت کی جس میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور عمران خان کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان این اے95 سے نااہل قرار دیے جاچکے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان نا اہل ہو چکے، وہ پارٹی چیئرمین شپ کا استحقاق بھی نہیں رکھتے لہٰذا انہیں چیئرمین کے عہدے سے ہٹانےکا حکم دیا جائے۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ عمران خان کوآرٹیکل 63 ون تھری کےتحت نااہل کیا گیا وہ پڑھ کر سنائیں اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان آرٹیکل62، 63 کے تحت اب پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیسے نہیں رکھ سکتے؟ عدالت کو مطمئن کریں، اس پر وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مجھےعبوری ریلیف فی الحال بیشک نہ دیں مگرفریقین کو نوٹس جاری کردیں۔

اس پر جسٹس ساجد محمود نے کہاکہ عدالت درخواست کےقابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کررہی ہے

توشہ خانہ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی الیکشن کمیشن کے حکم کو فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

19 − 14 =