وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نےاسلام آباد ہائی کورٹ سے 14 دن کی حفاظتی ضمانت حاصل کر لی۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کی 14 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کی۔ سلیمان شہباز ضمانت کے لیے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

IHC بینچ نے ابتدائی دلائل کے بعد سلیمان شہباز کی 14 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوۓ وزیراعظم کے صاحبزادے نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا۔

لندن میں چار سال کی جلاوطنی کے بعد 11 دسمبر کو پاکستان واپس آنے کے بعد سلیمان شہباز نے ہائی کورٹ کے سامنے خود کو پیش کردیا۔

اس ہفتے کے شروع میں، عدالت نے حفاظتی ضمانت کے لیے ان کی درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیب کو اس کیس میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سلیمان کو حوالے کرنے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھا تھا، جو منی لانڈرنگ کے الزامات اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر اسکینڈل کے تحت احتساب کے نگراں ادارے کو مطلوب تھے۔

ایک احتساب عدالت نے 2019 میں منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔

حمزہ شہباز پنجاب کے اکیسویں وزیر اعلی منتخب ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

sixteen − one =