پشاور دھماکہ:سی سی ٹی فوٹیج سے خود کش بمبار اورایک سہولت کار کی شناخت

پشاور دھماکہ:سی سی ٹی فوٹیج سے خود کش بمبار اورایک سہولت کار کی شناخت.پچھلے دنوں پشاور کی قصہ خوانی جامعہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکہ کے خودکش بمبار اور اس کے ایک سہولت کار کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

اس دھماکے میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف مختلف اضلاع میں آپریشنز جاری ہیں۔دھماکہ کی سی سی ٹی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح خود کش بمبار نے آکر پہلے پولیس پر فائرنگ کی اور پولیس والے بھاگ گئے جبکہ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے ایک نمازی پر فائر کیا اور وہ اٹھ نہ سکا اس کے بعد وہ مسجد کے اندرونی حصہ میں داخل ہوگیا جہاں چند ہی لمحوں کے بعد اس نے خود کو بم دے اڑا دیا۔

جس کے ساتھ ہی بہت 200کے لگ بھگ نمازی زخمی اور 62نمازی شہید ہوگئے۔انویسٹی گیشن کی ٹیموں نے خود کش بمبار اور اس کے ایک سہولت کار کی تفصیلات لے لی ہیں جس کے مطابق خود کش حملہ آور کی عرفیت عبداللہ تھی اور وہ اپنے نام بدلتا رہتا تھا۔جبکہ خودکش بمبار کے ایک سہولت کار کا ڈیٹا اور تصویر حاصل کر لی گئی ہے۔

جس کا نام حسن ہے اور اس کا تعلق جمرود ضلع خیبر سے بتایاگیا ہے۔سہولت کاروں کے نیٹ ورک کی گرفتاری کے لئے جی ایس ایم لوکیٹر کی مدد سے قبائلی اضلاع میں کوشش جاری ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے خودکش بمبار اور سہولت کار کو جائے وقوع تک پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کا بھی انٹرویو کیاہے اور اس حملے میں زخمی افراد کے بیانات بھی قلمبند کئے ہیں۔خود کش بمبار کو رکشہ پر لایا گیا تھا اور اس کے ساتھ دو دیگر سہولت کار بھی موجود تھے۔

خود کش بمبار اور دونوں سہولت کاروں کے خاکے تیار کرلئے گئے ہیں جبکہ دو مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔سی ٹی ڈی سپیشل انویسٹی گیشن کی 4ٹیمیں ابھی بھی مختلف قبائلی اضلاع میں ملزمان کی گرفتاری کے لئے اپنی کاروائی کر رہی ہیں۔

رفیق تارڑ سابق صدر پاکستان طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

7 − 3 =