دو خواتین کا کام:ملازمہ کو قتل کر کے لاش ڈبہ بند کر کے پھینک دی.

دو خواتین کا کام:ملازمہ کو قتل کر کے لاش ڈبہ بند کر کے پھینک دی.ہمارا معاشرہ معلوم نہیں کس رخ پر چل نکلا ہے۔آئے روز گھریلو ملازموں پر تشدد، ظلم اور زیادتی کے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں اور صرف اس لئے کہ وہ غریب ہیں اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے ان کی نوک جھوک،ظلم اور زیادتی برداشت کر رہے ہیں۔

حال ہی میں لاہور میں پیش آنے والے واقعہ نے ایک بار پھر گھریلو ملازمین پر نظر ثانی کرنے کی طرف توجہ دلوائی ہے۔لاہور کے علاقے کاہنہ میں دو خواتین نے اپنی گھریلو ملازمہ کو قتل کر کے لاش ڈبے میں بند کر باہر پھینک دی ہے۔

پولیس کو اطلاع ملی کہ کچھ نامعلوم افراد گتے کا ایک ڈبہ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ جس پر پولیس حرکت میں آئی اور اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی۔ڈبہ کو قبضہ میں لے کر کھولا تو معلوم ہوا کہ ڈبہ کے اندر لاش ہے۔ لاش کی شناخت یاسمین کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ یہ کام دو خواتین کا ہے۔شاید ان کا بھید بھید ہی رہتا لیکن علاقہ بھر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں سب کچھ واضح دیکھا جاسکتا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پورے واقعہ کا بھیدپوری طرح کھل چکا ہے اور قاتل خواتین کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قتل ہونے والی یاسمین دراصل بشری بی بی کے گھر ملازمہ تھی۔

عام طور پر یہ موت گلا دبانے سے لگتی ہے لیکن مقتولہ کے پیٹ میں چھری لگنے کا زخم بھی موجود ہے۔ تاہم لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد تمام صورتحال واضح ہو جائے گی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی بشری بی بی اور اس کی بیٹی ارم تاحال فرار ہیں جبکہ پولیس نے ان کے عزیز و اقارب کو حراست میں لے کر کاروائی شروع کر دی ہے اور مختلف مقامات پر ان خواتین کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔

وزارت اعلیٰ پنجاب:ق لیگ نے اپوزیشن کو فیصلہ سنا دیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں

10 − 6 =