ے یو آئی کی ڈنڈا بردار انصارالاسلام فورس پارلیمنٹ لاجز میں داخل .

جے یو آئی کی ڈنڈا بردار انصارالاسلام فورس پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوئی اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے والے پارلیمینٹرین کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ لاجز میں کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا*

پولیس نے انصار السلام فورس کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے انھیں گرفتار کر لیا ساتھ ہی ساتھ پارلیمنٹ کے اندر ان کو لے جانے والے صلاح الدین ایوبی کو بھی گرفتار کر لیا۔

اسی دوران جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ لاجز پہنچ گئے تھے۔ گرفتاری دینے کا اعلان کیا تھا. جبکہ جے یو آئی کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو کان سے پکڑ کر باہر نکالنے کے بیانات جاری کئیے جا رہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کارکن جہاں پر بھی ہوں گھروں سے باہر نکلیں سڑکیں بازار بند کر دیں.

سوال یہ ہے کہ آپ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر کے ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟؟؟آئین کا آرٹیکل 256 مسلح تنظیم بنانے سے روکتا ہے. ایسے میں مسلح فورس کے طور پر ‘انصار الاسلام’ کی حکومت کے کاموں میں مداخلت پر ان کے خلاف آئینی کاروائی ہونا کیوں ضروری نہیں ہے.

*حکومت کسی بھی جماعت کی ہو کسی بھی مسلح جتھے کا چیلنج کسی بھی طور پر قابل قبول عمل نہیں ہونا چاہیے.

جے یو آئی کی مسلح ملیشیا کا ناظم اعلان کر رہا ہے کہ ایک جتھہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے پارلیمان لاجز پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور یہ ایک باقاعدہ منصوبے کا حصہ جس کے پیچھے فضل الرحمنٰ خود ہیں.

فواد چودھری وفاقی وزیر اطلاعات

شارجہ :عمران نذیر اور عبدالرحمان کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کی ایک اور جیت.

اپنا تبصرہ بھیجیں

sixteen − 4 =