امریکہ نے بھی بھارت میں حجاب پر پابندی کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دے دیا.

امریکہ نے بھی بھارت میں حجاب پر پابندی کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دے دیا.ٹویٹر پر جاری کردہ امریکی ادارے برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی پیغام کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے حکام کو مذہبی لباس کی اجازت کا تعین نہیں کرناچاہیے۔ اگر کسی ملک میں مذہبی آزادی ہے تو وہاں مذہب کی آزادی میں لباس کے انتخاب کی آزادی بھی شامل ہے جس کے مطابق سکولز اور کالجز میں حجاب پر پابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے کسی نہ کسی بہانے،کسی نہ کسی چیز کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔حال ہی میں حجاب کو بنیاد بنا کر مسلمانوں سے ناروا سلوک برتا جارہا ہے اور اس حوالے سے ان کی عدالتیں بھی خاموش ہیں۔تصویریں اور ویڈیوز چیخ چیخ کر حقائق بیان کررہی ہیں لیکن پھر بھی کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

پچھلے دنوں ہونے والے واقع کی ویڈیو میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ زعفرانی شالیں اوڑھے انتہا پسند ہندو طلباء کا ایک گروپ ایک برقع پوش طالبہ کو ہراساں کر رہا ہے۔طالبہ نے بھی ہمت دکھائی ہے اور ان کا بھرپور مقابلہ کیا ہے۔اللہ اکبر کے نعرے اس نے فضاء میں بلند کئے اور انتہا پسند ہندؤوں کو اپنے حق کا احساس دلایا ہے۔

یہ ایسا واقعہ ہے جو اس وقت پوری دنیا میں وائرل ہوچکا ہے جس پر دنیا بھر کے ممالک کے بیانات سامنے آرہے ہیں جو کہ اس بہادر طالبہ کی ہمت کو داد دے رہے ہیں اور اس کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔

امریکہ نے بھی اس واقعہ پر اپنے تاثرات کا اظہار کر دیا ہے اور بھارت میں نام نہاد مذہبی آزادی کو واضح کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کئی کالجز اور سکولز میں انتظامیہ اور طالبات کے درمیان حجاب کے حوالے سے اختلاف جاری ہے اور اب یہ معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

درج بالا واقعہ کے خلاف بھارت بھر کے کئی شہروں میں مظاہرے ہورہے ہیں اور حالات کشیدہ ہونے پر ریاستی حکومت کو تین روز کے لئے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنا پڑا ہے۔

کرناٹک:مسلم طالبات کے حجاب کا تنازع شدت اختیار کر گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں

four × 5 =