کیا کسی کو خون دینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا کسی کو خون دینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

روزے کے حوالے سے یہ سوال بہت زیادہ پوچھے جانے والے سوالوں میں سے ایک ہے۔ کیا کسی کو خون عطیہ کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

روزہ ایک اہم اسلامی عبادت ہے اس لیے اس کے احکام اور مسائل ہمیں اچھی طرح معلوم ہونے چاہیں کیونکہ جس اسلامی عبادت کے احکام اور مسائل ہمیں اچھے سے معلوم ہوتے ہیں ہم وہ عبادت اچھے طریقے سے کر کے اللہ تعالی کی رضاء اور خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔

روزے کی حالت میں بلڈ ڈونیٹ کرنا ممنوع نہیں ہے۔ آپ روزے کی حالت میں خون دے سکتے ہیں۔ تاہم اگر خون دینا زیادہ اہم نہ ہو اور افطاری کے بعد عطیہ دیا جا سکتا ہو تو افطاری کے بعد خون دینا چاہیے۔

علماء کرام کا کہنا ہے کہ ویسے تو بلڈ افطاری کے بعد ہی دینا چاہیے لیکن اگر حالت روزہ میں خون دینا لازمی ہو جائے تو پھر عطیہ کم مقدار میں دینا چاہیے۔ اتنا زیادہ خون نہیں دینا چاہیے کہ روزہ دار کو کمزوری یا نقاحت لاحق ہو جائے۔

روزہ کے حالت میں خون دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ روزے کی حالت میں بلذ ڈونیٹ کرنا جائز ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ تاہم کوشش یہی کی جائے کہ افطاری کے بعد ہی عطیہ کیا جائے تاکہ روزہ دار کمزور نہ ہو جائے یا خود بیمار نہ ہو جائے۔ اگر بلڈ دینا لازمی ہو اور خون عطیہ کرنے والا کوئی اور نہ ہو تو روزہ دار خون دے سکتا ہے۔

ہمارا روزہ تب ٹوٹتا ہے جب ہمارے جسم میں باہر سے کوئی چیز خاص طور پہ کوئی خوراک یا پینے کی چیز داخل ہوتی ہے۔ جبکہ بلڈعطیہ کرنے کی صورت میں جسم سے بلڈ نکل کر باہر جا رہا ہوتا ہے۔ جسم میں داخل نہیں ہو رہا ہوتا۔ دوسریف عطیہ کرنا بذات خود ایک ثواب کا کام ہے اس لیے روزے کی حالت میں دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اعظم عمران خان کے جانے پر حریم شاہ بھی آبدیدہ, رونے کی ویڈیو وائرل .

اپنا تبصرہ بھیجیں

16 − six =