سائنسدانوں کو چکر دینے والا دنیا کا بڑا جرثومہ.

سائنسدانوں کو چکر دینے والا دنیا کا بڑا جرثومہ.ویسٹ انڈیز کے ساحلوں پر مینگروز کے جنگلوں میں پایا جانے والا یہ جرثومہ پتلے دھاگے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو عام بیکٹیریا کی لمبائی صرف 2مائیکرو میٹر ہوتی ہے جبکہ یہ دریافت ہونے والا یہ جرثومہ اوسطاً 10,000مائیکرو میٹر جتنا لمبا ہوتا ہے جبکہ اس کا سب سے بڑا نمونہ 20,000مائیکرومیٹر جتنا دیکھا گیا ہے اور اس اوسط سے دیکھا جائے تو یہ عام بیکٹیریا کے مقابلے میں 5000سے 10000گنا تک بڑا ہے۔

اس سے قبل حیاتیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ بیکٹیریا کی جسامت لمبائی کے لحاظ سے 750مائیکرومیٹر سے زیادہ ممکن ہی نہیں۔ لیکن اس نئی دریافت کی بناء پر وہ سابقہ خیال غلط ثابت ہوچکا ہے۔اس جرثومے کے لحاظ سے دوسری حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا جینوم ہے جبکہ عام جرثوموں کے جینوم میں DNAکے 40لاکھ اساسی جوڑے اور لگ بھگ 3900جین ہوتے ہیں لیکن اس نئے دریافت ہونے والے جرثومے کا جینوم 1کروڑ 10لاکھ DNAاساسی جوڑوں اور 11000جین پر مشتمل ہے۔

یعنی کہ عام بیکٹیریا سے تقریباً چا رگنا زیادہ اس میں اساسی جوڑے موجود ہیں۔اس جرثومے کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ تھیومارگریٹا میگنیفیکا میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے بیکٹیریا نے آپس میں ایک دوسرے سے مل کر ایک لمبی لڑی جیسی شکل اختیار کر لی ہوئی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے او ریہ لمبی لڑی دراصل ایک ہی بیکٹیریا ہے جس کا DNAہے جو اس کی خلوی جھلی یعنی کہ سیل ممبرین میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے مختلف کھوکھلے مقامات کے اندر بند ہے۔یاد رہے کہ سائنسدانوں نے اس سے پہلے بھی بڑے جرثومے دریافت کئے تھے لیکن وہ 750مائیکرو میٹر طویل تھے۔ اس حسا ب سے دیکھا جائے تو یہ ان کے مقابلے میں بھی 13سے 25گنا بڑا جرثومہ ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز روسی بمباری میں تباہ.

اپنا تبصرہ بھیجیں

ten + 2 =