ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔

پاکستان کا مستقبل کا توانائی کا منظر نامہ بھیانک نظر آتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اپنے تیل کے کل ذخائر کا 79.8% اور قدرتی گیس کے 66.6% ذخائر استعمال کر چکا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے 1,234 ملین بیرل میں سے 985 ملین بیرل تیل استعمال کیا ہے جو کہ کل کا 79.8 فیصد ہے۔ اس وقت ذخائر میں 249 ملین بیرل باقی ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق بلوچستان اپنے تیل کے ذخائر کا تقریباً 13 فیصد استعمال کر چکا ہے۔ خیبرپختونخوا (کے پی) نے 64 فیصد، پنجاب 84 فیصد اور سندھ نے 84.5 فیصد وسائل استعمال کیے ہیں۔

بلوچستان کے پاس اب بھی گیس کے 26 فیصد ذخائر موجود ہیں۔ کے پی میں 40 فیصد اور سندھ میں 35 فیصد ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں میں قدرتی گیس کی طلب میں سالانہ 5 فیصد اضافے سے ملکی وسائل متاثر ہوئے ہیں۔

اے جی پی نے نوٹ کیا کہ پیٹرولیم ڈویژن کی رپورٹ نے اشارہ کیا کہ ملک میں قدرتی گیس کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی بنیادی وجہ موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہے، جس میں 2001 کے بعد سے کوئی اہم دریافت نہیں ہوئی۔

کریتی سانون نے پربھاس کے ساتھ شادی کی خبروں کی تردید کردی.

اپنا تبصرہ بھیجیں

12 − one =