کرونا ڈیلٹا ویرینٹ اور پاکستان کی موجودہ صورتحال۔

کرونا ڈیلٹا ویرینٹ کیا ہے؟

گزشتہ دو برس سے دنیا پر چھائے اس وائرس کے جال میں آۓ روز نئی خبریں گردش کرتی سنائی دیتی ہے۔پچھلے کچھ مہینوں سے دنیا بھر میں کروناڈیلٹاویرینٹ کی گونج ہر ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہی ہے۔

ڈیلٹا ویرینٹ کورونا وائرس کے جراثیم کی ایک تبدیل شدہ قسم ہے. جسے پچھلی تمام اقسام سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ یہ قسم دوسری کسی بھی قسم سے زیادہ تیزی سےپھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ قسم دو سو پچیس گنا زیادہ معتدی ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کاپہلا کیس2020کے اختتامی دنوں میں انڈیا میں رپورٹ ہوا . پھر دنیا بھر نے انڈیا کے بدترین حالات دیکھے۔ اب یہ ویرینٹ دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی پھیل رہا ہے.

سب سے زیادہ کیسس اب تک کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ انڈیا کےحالات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کورونا کی یہ قسم پاکستان کو کس قدر معاشی و اقتصادی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

کرونا ڈیلٹا ویرینٹ کی علامات:

ماہرین کے مطابق ڈیلٹا ویرینٹ کی علامات میں کورونا کی عام علامات شامل ہیں. جیسے کہ کھانسی، ذائقے کی حس ختم ہونا اور بخار کے علاوہ دیگر اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان خاص علامات میں سر درد، ناک کا بہنا اور گلے کی سوزش شامل ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ قسم بچوں کےلیےخصوصاًخطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
بارہ سال سے کم عمر بچوں کا وائرس کا نشانہ بننے اور علامات پہلے سے زیادہ ظاہر ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈیلٹا ویرینٹ کے پاکستان پر ممکنہ اثرات:

گزشتہ دو ماہ سے کورونا کی تیسری لہر کےپھیلاؤ میں بتدریج کمی کے بعد اب پھر سے کورونا سر اٹھانے لگا ہے. ِاس بار وائرس کی سب سے مہلک قسم یعنی ڈیلٹا ویرینٹ ملک میں وبا کی صورت میں پنچے گاڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں تفریحی مقامات اور دیگر کاروبار مکمل طور پر بحال کیے گئے تھے .مگر چوتھی لہرکے پھیلاؤ کے ساتھ ہی دوبارہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو چوتھی لہر کے پھیلاؤ کی صورت میں ایک بار پھر معاشی ترقی میں خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فالئٹ آپریشن معطل ہونے کے باعث ادارے نقصان اٹھائیں گے.

دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف سفری اور تجارتی پابندیاں پاکستان کے لیے رکاوٹ بنیں گی۔ پاکستان حکومتی حکمت عملی اور سمارٹ لاک ڈاؤن پر مستقل کاربند رہا.اس لئے پچھلی تمام کورونا کی لہروں سے کامیابی سے نبردآزما ہوا .لیکن ِاس وقت عوام کا غیر سنجیدہ رویہ ملک کووائرس کی اس نئی قسم کے خلاف مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

پاکستان کورونا سے مقابلے میں کس حد تک کامیاب رہا:

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تینوں لہروں کے دوران حکومت کی مؤثر پالیسیوں کی بنا پر پاکستان نےکورونا کا بہترین انداز میں مقابلہ کیا۔ پاکستان کی کاوشوں اور کامیابی کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا گیا۔

کرونا ڈیلٹا ویرینٹ کے اثرات کی شدت کا اندازہ پڑوسی ملک کے حالات دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے. اور اس لہر کامقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ مکمل طور پر اس وبا سے نجات حاصل کرنے کا واحد طریقہ ویکسینیشن ہی ہے۔

ڈیلٹا ویرینٹ اور ویکسینیشن:

تحقیق کے مطابق کورونا کی موجودہ ویکسینیز ڈیلٹا ویرینٹ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے. جہاں عوام ویکسینیشن کروارہے ہیں وہیں دوسری طرف کثیر تعداد میں لوگ ویکسین سے کترا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جوں جوں وائرس پھیلے گا، اس کے ساتھ ساتھ اَن ویکسینیٹڈ افراد کے لیے خطرہ بڑھتا جائے گا۔احتیاط کے ساتھ ساتھ ویکسین لگوانا کورونا سے بچنے اور ملک کو نارمل حالات میں واپس لانے کے لیےناگزیر ہے.

تحریر فرحان بٹ

کرونا ویکسین سے متعلق تمام سوالات کے جوابات جانیے؟

کرونا وائرس کے اثرات

اپنا تبصرہ بھیجیں