کیا یہ گستاخی نہیں….

ناموں کی اہمیت

( گستاخی) ابھی بچہ دنیا میں آیا نہیں کہ اُ س کے نام رکھنے کی فکر پہلے ہی ستانا شروع کر دیتی ہے۔تمام کنبہ مِل کے بچے کا نام رکھتا  ہے۔ہماری خواہش ہوتی ہے کہ نام بولنے میں خوبصورت لگے، منفرد ساہو، ایسا نام  جو شاذو نادر رکھا گیا ہو۔

نام کے معنی اچھے ہونے چاہیئے۔نام اسلامی ہونا چاہیئے۔یعنی بچے کا نام رکھنے سے پہلے خوب منصوبہ بندی کی جاتی ہے . ہر لحاض سے بچے کا ایک بہترین نام رکھا جائے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟ کئی وجوہات ہو سکتی ہیں. مگر میری ناقص عقل کے مطابق نام ایک یا ایک سے زیادہ الفاظ  پرمشتمل ہوتا ہے. اور الفاظ میں اثر ہوتا ہے ، طاقت ہوتی ہے جو آپ کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔

جو نام ایک دفعہ رکھ لیا جاتا ہے اُسی نام سے ہمیں ساری زندگی پُکارا جاتا ہے۔ اکثر لوگ بعدازاں زندگی میں نام تبدیل کر لیتے ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نام بھاری ہے لہٰذا  تبدیل کرلیا .

جبکہ کچھ لوگ نام کا مطلب اچھا اور مثبت نہ ہونے کہ وجہ سے نام تبدیل کر لیتے ہیں۔اچھے مثبت الفاظ مثبت توانائی پھیلاتے ہیں جبکہ منفی الفاظ منفی توانائی( گستاخی)۔

تسبیح کس طرح کی جاتی ہے؟

ایک لفظ بار بار پڑھا جاتا ہے۔سائنسی اعتبار سے تو غالباً ثابت نہیں مگر جو الفاظ ہم پڑھتے ہیں اُسی قسم کی ہماری نیچر بن جاتی ہے. ارد گر د ماحول بھی ویسا ہی قائم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح جب ہم کسی خاص مقصد یا کام پورا ہونے کے لئےتسبیح کرتے ہیں،ہمارا کام ہوجا تا ہے جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

گستاخی

یعنی اگر لفظ الرحیم بار بار پڑھا جائے تو یہ تسبیح کچھ عرصہ  متواتر دہرانے کے بعد آپ پہلے سے زیادہ رحم دل ہو جاؤ گے۔ آپ کا واسطہ رحم دل لوگوں سے پڑے گا ۔تسبیح کے بارے میں ایسا میرا سوچنا ہے ۔

بات کرنے کامقصد یہ ہے کے الفاظ میں طاقت ہوتی ہے،ان میں اثر ہوتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ منہ سے اچھے مثبت الفاظ ادکرنے چاہیئے ( گستاخی) ۔

آج مورخہ 02.06.2021کو دفتر میں دوپہر کا کھانا

ہمارا ایک کولیگ جس کا نام ندیم ہےنہایت  دلچسپ انسان ہے۔ دفتر میں کام کے دوران اُس کی مزاحیہ  باتوں اور حرکتوں سے ہم لطف و اندوز ہوتے رہتے ہیں.

  اس طر ح کام کے دوران ذہنی تھکاوٹ کا بھی اتنا احساس نہیں ہو پاتا۔ندیم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کھانا بہت مزیدار لے کر آتا ہے۔

زبردست گرم گرم پتیری روٹیاں۔اور   جو سالن جہاں جہاں سے اچھا ملتا ہے وہیں سے لاتا ہے۔ اگر ایک ہوٹل میں دال ماش ذائقہ دار ملتی ہے اور باقی ڈشز سو سو ہوتی ہیں. تو یہ نہیں کہ جلد بازی کرتے ہوئے سارا سامان وہیں سے لے لیا۔

بلکہ ماش کی دال جہاں سے اچھی ملتی ہے وہاں سے ماش کی دال لینی ہے.کڑی جہاں سے اچھی ملتی ہے  وہیں سے خریدنی ہے. اور اسی طرح بریانی جہاں سے اچھی ملتی ہے ندیم نے وہیں سے لانی ہے. فاصلہ چاہے میلوں کا کیوں نہ ہو۔

آج ندیم معمول کے مطابق بڑا تازہ مزیدار کھانا لے کر آیا۔جس میں ایک ڈش جسے زبان زد عام میں چکڑ چنے کہتے ہیں بھی موجود تھی۔چکڑ چنے بہت مزیدار تھے۔کھاتے ہوئے میرے دل میں آیا کہ یار یہ ڈش کتنی مزیدار ہے اور دہی کے ساتھ مزہ دوبالا ہو جاتا ہے( گستاخی)۔

میرے دل میں اُس ڈش کے لئے سافٹ کارنرسا پیدا ہوا  ۔ہم اس  بیچاری ڈش کوچکڑ چنے کہتے ہیں   ۔کھانےجیسی پاک چیز کو کیا اس طرح پکارنا جائز ہے؟ کھانے کی تو بہت عزت کرنی چاہیئے، میں نے دل میں کہا۔

میں نے کھانا کھاتے ہوئے دوستوں سے برملا  پوچھا یار اس ڈش کو چکڑ چنے کیوں کہتے ہیں؟بٹ صاحب اس کی رنگت چکڑ کے جیسی ہوتی ہے اس لئے، ندیم نے آگے سے جواب دیا۔

بھئی کیچڑ جسے ہم پنجابی میں چکڑ کہتے ہیں پاک چیز تو نہیں،   یہ تو کھانےکی بے حرمتی ہے، اس ڈش کے کے ساتھ زیادتی ہے، میں نے کہا۔

باہر چلتے ہوئے   اگر کپڑوں کو کیچڑ لگ جائے تو گھر واپسی پر سب سے پہلے اور کچھ نہیں ہم کپڑ ے کا وہ حصہ  صاف کرتے ہیں جہاں کیچڑ لگا ہوتا ہے۔تو کیا   کھانے والی   اس قدر مزیدار ڈش  کو چکڑ چنے کہنا جائز ہے،کیا یہ گستاخی نہیں؟

فرحان بٹ (گزیٹڈ افسرحکومت پنجاب)

کرونا ویکسین سے متعلق تمام سوالات کے جوابات جانیے؟

جہاد اور دہشت گردی

اپنا تبصرہ بھیجیں

fifteen + 11 =