ایف آئی آر (مقدمہ) کی تفتیش تبدیل کروانے کا طریقہ کار

تبدیلی تفتیش

ایک مشہور جملہ روز مرہ کی زندگی میں استعمال کیا جاتا ہے کہ :
“قانون سے لاعلمی کوئی عذر نہیں ہے”

یہ جملہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں قانون کا پتا ہونا ، اُس کے بارے میں علم اور آگہی ہونا ہماری زندگیوں میں نہایت اہمیت کا حامل ہے.اس لئے ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لئے قانون سے آشنائی بہت ضروری ہے.

لوگ اکثر نہایت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہوتے ہیں.کیونکہ مقدمہ یعنی ایف آئی آر تو درج ہوگئی مگر اُس کی تفتیش کرنے والا تفتیشی افسر مقدمہ کی تفتیش احسن طریقے سے نہیں کررہا . یا مخالف فریق سے رشوت لے کر مدعی مقدمہ کو خوار کررہا ہے.

اس طرح کی صورت حال میں کیا کرنا چاہیئے؟

یاد رکھیے اگر آپ کا تفتیشی مقدمہ کی تفتیش میرٹ پر نہیں کررہا ہے. تو آپ پولیس آرڈر2002 کے آرٹیکل 18اے کے تحت اپنے مقدمہ کی تین دفعہ تفتیش تبدیل کروانے کا حق رکھتے ہیں. جس کا طریقہ کار درج ذیل ہے:

پولیس آرڈر آرٹیکل 18 ذیلی آرٹیکل 1

اگر آپ کا تفتیشی مقدمہ کی تفتیش میرٹ پر نہیں کررہا تو ضلعی پولیس کے سربراہ کو پہلی تفتیش تبدیلی کی درخواست گزار سکتے ہیں .ضلعی پولیس کا سربراہ آپ کی درخواست پر سات روز کے اندر ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ بورڈ کی رائے حاصل کرے گا.

اور اگر مناسب گردانے گا تو آپ کے مقدمہ کی تفتیش کسی دوسرے تفتیشی افسر .یا پچھلے تفتیشی افسر کے رینک کے برابر .یا اس سے زیادہ رینک کے افسروں کی ٹیم کو آپ کے مقدمہ کی تفتیش سونپ سکتا ہے.

پولیس آرڈر آرٹیکل 18 ذیلی آرٹیکل 2

اگر ضلعی پولیس کے سربراہ نے تفتیش کی منتقلی کے لئے آپ کی درخواست پر فیصلہ کر دیا ہے. تو آپ ریجنل پولیس آفیسر کو تبدیلی تفتیش کی درخواست دائر کریں.ریجنل پولیسس آفیسر آپ کی درخواست موصول ہونے کے سات روز کے اندر علاقائی اسٹینڈنگ بورڈ کی رائے حاصل کرے گا.

اور تحریری طور پر تفتیشی افسر یا تفتیشی افسروں کی ٹیم سے کسی دوسرے تفتیشی افسر .یا سابق تفتیشی افسر یا افسران کے رینک کے برابر. یا اس سے زیادہ رینک کے تفتیشی افسروں کی ٹیم کو آپ کے مقدمہ کی تفتیش سونپ سکتا ہے.

پولیس آرڈر آرٹیکل 18 ذیلی آرٹیکل 3

اگر کسی علاقائی پولیس افسر نے تفتیش کی منتقلی کی درخواست کا فیصلہ کیا ہے. تو صوبائی پولیس افسر آپ کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے تیس روز کے اندرسٹینڈنگ ریویو بورڈ کی رائے حاصل کرے گا.

اور اگر مناسب سمجھے گا تو کیس کی تفتیش کسی دیگر تفتیشی افسر .یا تفتیشی افسروں کی ایک ٹیم جو پچھلے تفتیشی افسر یا افسران کے درجہ کے برابر ہوگی. یا اس سے زیادہ رینک کے افسر کو منتقل کر سکتا ہے.

پولیس آرڈر آرٹیکل 18 ذیلی آرٹیکل 4

ڈسٹرکٹ انویسٹی گیشن برانچ کے پاس زیر تفتیش کیس صرف کسی دوسرے افسر یا ڈسٹرکٹ انویسٹی گیشن برانچ، ریجنل انویسٹی گیشن برانچ یا پراونشل انویسٹی گیشن برانچ کے افسران کی ٹیم کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پولیس آرڈر آرٹیکل 18 ذیلی آرٹیکل5

(a) ‘ڈسٹرکٹ اسٹینڈنگ بورڈ’ سے مراد ضلعی اسٹینڈنگ بورڈ ہے. جو ضلعی پولیس کے سربراہ کے ذریعہ تشکیل دیا گیا ہے. جس میں ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بطور چیئرپرسن اور دو افسران بطور ممبر شامل ہیں. جو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے کم نہ ہوں ؛

(b) ’ریجنل اسٹینڈنگ بورڈ‘ سے مراد علاقائی اسٹینڈنگ بورڈ ہے. جسے ریجنل پولیس آفیسر نے تشکیل دیا ہے. جس میں ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بطور چیئرپرسن اور دو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بطور ممبر شامل ہیں۔

(c) ’’اسٹینڈنگ ریویو بورڈ‘‘ سے مراد صوبائی پولیس آفیسر کے ذریعہ تشکیل دیا گیا .اسٹینڈنگ ریویو بورڈ ہے جس میں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس بطور چیئرپرسن اور دو افسران شامل ہیں. جو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے کم نہیں ہوں گے۔ اور

(d) کیپٹل سٹی ڈسٹرکٹ کے معاملے میں ہیڈ آف ڈسٹرکٹ پولیس اور ریجنل پولیس آفیسر کا حوالہ بالترتیب کیپٹل سٹی کی ڈسٹرکٹ انویسٹی گیشن برانچ کے سربراہ اور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر سے لیا جائے گا۔

تجزیہ و وضاحت

موضوع کے اختتام پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس آرڈر میں تبدیل تفتیش سے متعلق آرٹیکل عوام الناس کو تین دفعہ تبدیلی تفتیش کروانے کے مواقع فراہم کرتا ہے.

افسران بالا آپ کی درخواست موصول کرنے کے بعد تمام فریقین اور کیس فائل منگوا کر جانچ پڑتا ل کریں گے. اور اگر مناسب سمجھے گیں اور اس امر کا تعین کرلیں گے کہ آپ کے مقدمہ کی تفتیش پہلے تفتیشی افسر نے درست نہ کی تھی.

تو کسی ایماندار اُسی رینک کے یا کسی بڑے رینک کے افسر کو آپ کے مقدمہ کی تفتیش منتقل کر سکتے ہیں.

پہلی تبدیل تفتیش

پہلی تبدیل تفتیش کی درخواست آپ متعلقہ ایس ایس پی کو گزاریں گے. جو ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ بورڈ تشکیل دے گا. اُس بورڈ میں ایک چیئرپرسن ایس پی رینک کا ہوگا اور 2 ڈی ایس پیز رینک کے افسر اُس بورڈ کے ممبر ہونگے. جو اپنے اجلاس میں فریقین یعنی مدعی مقدمہ ، ملزم مقدمہ اور تفتیشی مقدمہ کو معہ مسل بلا کر اُنھیں سنیں گا .

ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ بورڈریکارڈ ملاحظہ کرے گا اور اگر محسوس کرےگا کہ مقدمہ کی تفتیش ٹھیک نہ ہورہی ہے. تو آپ کے مقدمہ کی تفتیش کسی دوسرے تفتیشی افسر، افسران، افسران کی ٹیم کو منتقل کرنے کی سفارش کرے گا.

اور اگر ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ بورڈ مناسب سمجھے گا تو آپ کی درخواست برائے تبدیلی تفتیش کو رد کرنے کی سفارش بھی کرسکتا ہے.اُن کی سفارشات کی روشنی میں ایس ایس پی آپ کی درخواست پر فیصلہ کرے گا.آپ کی درخواست پر سات روز میں فیصلہ کیا جانا ہے.

دوسری تبدیلی تفتیش

دوسری تبدیلی تفتیش کی درخواست آپ آر پی او، ڈی آئی جی یا سی پی او کو گزاریں گے.جو ریجنل سٹینڈنگ بورڈ تشکیل دے گا. جس میں ایک ایس پی اُس بورڈ کا چیئر پرسن ہوگا. اور دو ایس پی اُس بورڈ کے ممبر ہونگے.

ریجنل سٹینڈنگ بورڈ اپنے اجلاس میں فریقین ، تفتیشی کو معہ مسل طلب کرے گا ،اُنھیں سماعت کرے گا اور ریکارڈ ملاحظہ کرے گا .اس کے بعد ریجنل سٹینڈنگ بورڈ اگر مناسب سمجھے گا تو آپ کے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی سفارش کرے گا .یا آپ کی درخواست تبدیل تفتیش کو خارج کرنے کی تجویز پیش کرے گا.ڈی آئی جی یا آر پی او نے ریجنل سٹینڈنگ بورڈ کی سفارشات کی روشنی مٰیں آپ کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہے.یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپ کی درخواست پر ایک ہفتہ میں فیصلہ ہونا ہے.

تیسری تبدیلی تفتیش

اسی طرح تیسری تبدیلی تفتیش کی درخواست آپ انسپکٹر جنرل آف پولیس کو گزاریں گے. جو سٹینڈنگ ریویو بورڈ تشکیل دے گا .جس میں ایک ڈی آئی جی چیئر پرسن ہوگا اور دو ایس پیز اُس بورڈ کے ممبر ہونگے.

سٹینڈنگ ریویو بورڈ اپنے اجلاس میں فریقین ، تفتیشی کو معہ مسل طلب کرے گا.اُنھیں سماعت کرے گا اور ریکارڈ ملاحظہ کرے گا .اس کے بعد سٹینڈنگ ریویو بورڈ اگر مناسب سمجھے گا تو آپ کے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی سفارش کرے گا. یا آپ کی درخواست برائے تبدیل تفتیش کو خارج کرنے کی تجویز پیش کرے گا. صوبائی پولیس آفیسر نے آپ کی درخواست پر قانون کے مطابق تیس روز میں فیصلہ کرنا ہے .

چند اہم نکات

درخواست برائے تبدیلی تفتیش گزانے میں تاخیر نہ کریں.

پہلے دو بورڈ آپ کی درخواست پر ایک ہفتے میں تیسرا بورڈ آپ کی درخواست پر تیس روز میں فیصلہ کرنے کے پابند ہیں.تاہم ہمارے ملک میں نظام اتنا موثر نہیں اس لئے کچھ وقت اوپر بھی لگ سکتا ہے.

اگر آپ کی درخواست پر بروقت فیصلہ نہ ہوسکا ہے تو متعلقہ افسر کو دوبارہ درخواست گزاریں. یا متعلقہ دفتر جاکر متعلقہ افسر سے ملاقات کریں.یا متعلقہ عملے سے ملاقات کریں.

متعلقہ پولیس آپ کی تفتیش کسی ایسے افسر کو نہیں سونپ سکتی جو پچھلے تفتیشی افسر سے ادنیٰ رینک کا ہو.یا تو اُسی رینک کا ہوگا یا اُس سے زیادہ رینک کا افسر ہوگا.

مناسب ہوگا کہ درخواست برائے تبدیلی تفتیش گزارتے ہوئے درخواست میں باقاعدہ تذکرہ کریں کہ آپ کی تفتیش کسی سینئر اور ایماندار افسر کو منتقل کی جائے.

فرحان بٹ (گزیٹڈ افسر حکومت پنجاب)

کامیابی کی سیڑھیاں

ابلیس (شیطان) تو قید میں تھا پر و ہ کون تھا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں