علامہ اقبال کی شاعری

علامہ

تٰعارف

دنیا میں آنا اور یہاں سے جانا لگا ہوا ہے.عربوں کھربوں لوگ پیدا ہوئے اور اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے .زیادہ تر کے تو شاید کوئی نام سے بھی واقف نہ ہو.تاہم کچھ لوگ اپنے کام سے زمانے پر ایسی چھاپ چھوڑ گئے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی.

سب سے پہلی کتا ب اسرار خودی فارسی میں لکھی.آباو اجداد کشمیری پنڈت تھے.آپ کے باپ کا نام نور محمد تھا جو ایک درزی تھے.آپ نے تین شادیاں کیں.جرمنی میں ایک گلی آپ کے نام پر قائم ہے.آپ کی وفات منہ کی ایک خفیہ بیماری سے ہوئی.

ایک عظیم فلسفی، عظیم رہنما، عظیم سوچنے والے اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم شاعر ، جی ہاں علامہ محمد اقبال کی چرچہ ہو رہی ہے.برصغیر میں بے شمار بڑے شاعر پیدا ہوئے مگر علامہ اقبال کے پائے کا شاعر نہ کبھی پیدا ہوا اور شاید نہ کبھی پیدا ہوگا.

آپ کی شاعری نے کروڑوں عربوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا .آپ نے فارسی اور اُردو زبان میں شاعری کی.زیادہ تر شاعری اسلام اور مسلمانوں کے حوالےسے کی .

اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے

کہتے ہیں کہ عظیم انسان کی عظمت کی نشانیاں اُس کے بچپن ہی میں دکھائی دینے لگتی ہیں .کہتے ہیں ایک بار علامہ اقبال کلاس میں دیر سے آئے جس پر آپ کے اُستاد نے پوچھا، اقبال دیر سے کیوں آئے ہو؟ جواب دیا ، اقبال(اچھی قسمت، خوشحالی) ہمیشہ دیر سے آتا ہے.اقبال کے اس جواب نے اُستا د کو حیرانی میں ڈال دیا.

تی دا ور پیدا

کہا جاتا ہے کہ ایک محفل میں علامہ صاحب کا یہ شعر پڑھا گیا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا

اُس محفل میں ایک سکھ بیٹھا تھا جو یہ شعر سنتے ہی دھاڑے مار مار کر رونے لگا .وجہ پوچھی تو سامنے آیا کہ وہ شعر کے آخری الفاظ چمن میں دیداور پیدا کو تی دی ور پیدا(بیٹی کا خاوند، جوائی ) سمجھ بیٹھا.سکھ کا کہنا تھا کہ اقبال جی نے بالکل صحیح آکھیا کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے تی دا ور پیدا.

علامہ اقبا ل کی شاعری اور روز مرہ کی سرگرمیاں

محفلیں علامہ صاحب کی شاعر ی کے بغیر بے رونق ہیں؛

ایک اچھے مقرر کی تقریر اقبال کی شاعری کے بغیر غیر متاثرکن ہے؛

کوئی بھی مضمون اقبال کی شاعری کے بغیر معیار پر پورا نہیں اُترتا حتی کہ طالب علموں کو اُس کے علیحدہ سے نمبر ملتے ہیں؛

کسی بھی محفل کے آغاز اور اختتام مٰیں اقبال کے اشعار کے استعمال سے جان پیدا ہوجاتی ہے؛
ماہرین ایک اچھے شاعر بننے کے لئے اقبال کی شاعری کا مطالعہ کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں.

علامہ اقبال کی شاعری اور شاہین

علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں لفظ شاہین کا بھی کئی مقام پر تذکرہ کیا ہے.دراصل شاہین سے مراد ہماری نوجوان نسل ہے.شاہین ایک پرندہ ہے جسے دوران پرواز کئی طرح کے مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے جس کے باوجود وہ باآسانی اُن مراحل کو طے کر لیتا ہے .اس لئے اقبال نوجوان نسل سے بھی شاہین کی طرح زندگی گزارنے کی توقع کرتے ہیں . آپ نے کیا خوب کہا:

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فٍضا میں
قرگس کا جہاں اور شاہیں کا جہاں اور
گو لفظوں معنی میں توافت نہٰیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور

وضاحت:قرگس کی پرواز بہت اونچی ہےمگر جب اُسے بھوک لگتی ہے تو زمین پر آتا ہے اور مردار کھاتا ہے.شاہین کی بھی پرواز قر گس کی طرح بہت بلند ہوتی ہے مگر اُسے زمین پر آج تک کسی نے کچھ کھاتے پیتے نہیں دیکھا.یعنی وہ آسمان پر ہی شکار کرتا ہے او ر وہیں پر کھاتا پیتا ہے.اس سے مراد یہ بھی لی جاسکتی ہے کہ قرگس کے مردار کھانے سے مراد اُن لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو لوگوں کا حق مارتے ہیں اور شاہین کا مردار نہ کھانےسے مراد وہ مومن ہے جو کبھی کسی دوسرے کا حق نہیں مارتا .

ایک اور جگہ فرمایا :

بصیرا کر لیا کرتا ہے یہ کوہو بیا باں میں
کہ شاہیں کے لئے ہے موت کار آشیاں بندی

یعنی شاہین کسی صورت گھر نہیں بناتا چاہے موت کیوں نہ آجائے.جہاں جگہ میسر آتی ہے وہ قیام کر لیتا ہے. دراصل علامہ صاحب کا اشارہ آج کل کی اس مادی دنیا کی طرف ہے جہاں عمارتیں اور عالی شان کوٹھیاں بنائی جاتی ہیں.شاہین کی طرح ایک فقیر کا بھی ٹھکانہ نہیں ہوتا ، جہاں جگہ ملتی ہے وہ وہاں قیام کر لیتا ہے.

علامہ اقبال کا تصور خودی

علامہ اقبا ل نے خودی کواپنی شاعری میں وسیع معنوں میں‌استعمال کیا ہے .اکثر اقبال کے تصور خودی کا غلط مطلب لیتے ہوئے اس کا مطلب انا جسے انگریزی میں ایگو کہتے ہیں کے طور پر لیا جاتا ہے جو کہ ہر گز غلط ہے.انا انسان کی شخصیت کا منفی پہلو ہے جبکہ اقبال نے خودی کا جو تصور پیش کیا وہ مثبت پہلووں کو اُجاگر کرتا ہے مثلن
انسان کو اپنی خود کی آگہی ہونے کا نام خودی ہے؛

اپنے باطن کو پہچاننے کا نام خودی ہے؛

خود شناسی خودی کے زمرہ میں آتی ہے؛

اپنے ضمیر کا سودا نہ کرنا خودی ہے؛

خدااور اُس کے رسول کے بعد اپنی ذات پر کامل بھروسے کا نام خودی ہے؛

اپنی مسلمانیت پر فخر کرنے کا نام خودی ہے؛

اقبال کا خودی کا تصور بہت وسیع ہے جس پر با آسانی اچھا خاصا تھیسز لکھا جا سکتا ہے.اس لئے آپ کیا خوب کہہ گئے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

وضاحت :یعنی اللہ کی فرمانبرداری میں اتنے مہو ہوجاو اور اُس کی اس قدر قربت حاصل کرو کہ تم اپنی تقدیر کے مالک ہو جاو.یعنی کن فیکوں کی منزل پالو.

علامہ اقبال ایک سچا عاشق رسول

کسی نے علامہ صاحب سے پوچھا کہ آپ کو قوم نے حکیم الامت کا خطاب دیا ہےآپ کی نظر میں اُس کے پیچھے کیاراز ہے؟ آپ نے جواب دیا ” میں نے ایک کروڑ مرتبہ حضور پر درود بھیجا ہے، آپ مجھ سے زیادہ درود بھیج دیں مجھ سے بڑامقام پالیں.

فقراء علامہ اقبال کی نظر میں

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
نہ پوچھ ان خرکہ پوچھوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدے بیداں لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

وضاحت:یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں دنیا مٰیں کوئی مقام ملے ، تم روحانیت میں ترقی پاو، عظیم کردار کا مرتبہ پالو، تو فقیروں کی خدمت کرو.کیونکہ بادشاہوں کے محلوں میں تمہیں وہ مقام کبھی نہیں ملے گا.اُن فقیروں کی طرف جاو ، مشاہدہ کرو، غور کرو تو ان سے بھی تمہیں کرامات ملیں گیں .گو کہ یہ پیغمبر نہیں لیکن عظیم مرتبے پر فائض ہیں.

تجزیہ

علامہ اقبال ایک بہت ہی عظٰیم انسان تھے جس کا ثبوت آپ کی عظیم شاعری ہے جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگیا ں بدل کر رکھ دیں اور آ پ کی شاعری سے لوگوں کو اُن کا قبلہ درست کرنے کا موقع ملا.آپ کی شاعری سے آپ کی عقلمندی، ذہانت اور فلسفانہ سوچ جھلکتی ہے.

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپ کو اپنی شاعری پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا لہذا آپ نے لوگوں کو اُن کی تنقید کا جواب اپنی شاعری ہی کے ذریعے دیا.ایک دفعہ آپ نے یہاں تک کہا کہ میں نے اپنی تمام شاعری قرآن پاک سے حاصل کی ہے اور اگر میں جھوٹا ہوا تو قیامت کے روز مجھے اپنے رسول کی قدم بوسی نصیب نہ ہو.

بے شک آپ کی شاعری نے انقلاب بر پا کیا .آپ کی شاعری سے آپ کی دور اندیشی اور گہرہ مشاہدہ ٔپھوٹ پھوٹ کر ٹپکتا ہے.آپ کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کو بیزار کرتے ہوئے اُن میں جوش و جذبہ پیدا کیا.آج آپ ظاہری طور پر بے شک دنیا سے کوچ کر گئے ہیں مگر آپ اپنی عظیم شاعری کی بدولت آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کئے ہوئے ہیں.

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطر ت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

وضاحت:جنت اور جہنم انسان کے اعمال سے بنتی ہیں.اگر اُس کے اعمال اچھے ہیں تو جنت میں جائے گا اور اُس کے اعمال برے ہیں تو وہ جہنم میں جائے گا.ہمارا جسم نہ ہی نور کا ہے اور نہ نار(آگ) کا ہے. یہ جسم خاکی جو اعمال کرتا ہے اُس کے نتیجے مٰیں نور ( یعنی جنت) بنے گی اور نار (یعنی دوزخ) بنے گی.

فرحان بٹ (گزیٹڈ افسر حکومت پنجاب)

دلچسپ سوالات کے جوابات

ڈینگی بخار کی علامات اور علاج

اپنا تبصرہ بھیجیں