اسلام آباد ہائی کورٹ میں ظاہر جعفر کے جارحانہ رویے پر جج کی وارننگ

اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے ایک تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں نورمقدم قتل کیس کے بنیادی ملزم ظاہر جعفر کو بعض کیا گیا ہے کہ اگر اس نے اپنی برہمی جاری رکھی تو اسے عدالت میں پیشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے: “ظاہر جعفر نے عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا رویہ درست کریں بصورت دیگر ان کو حاضر ہونے نہ دیا جائے گا۔بلکہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری پر پابند کیا جائے گا ۔

انسپکٹر مصطفیٰ کیانی نے عدالت کے احاطے میں سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ ظاہر کے رویے کی رپورٹ بھی جمع کرائی تھی۔ یہ حکم 3 ​​نومبر کو نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے
حوالے سے جاری کیا گیا۔
سماعت کے دوران ظاہر نے کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کو نازیبا الفاظ کہے۔

ظاہر جعفر کے الفاظ تھے کہ ،یہ عدالت گندگی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ عدالت اس کو گھسیٹ رہی ہے کیونکہ ان کے پاس طاقت نہیں ہے۔ میں نے اس سے زیادہ جعلی نظام کبھی نہیں دیکھا ۔
“میں آپ لوگوں کو مجھے پھانسی دینے کا موقع دے رہا ہوں لیکن پھر بھی آپ لوگ مجھے گھسیٹ رہے ہیں۔
یہ سب ایک پتلی تماشا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس سے زیادہ نااہل لوگوں کو ایک کمرے میں نہیں دیکھا،” انہوں نے کہا۔

جج نے اسکی اس حرکت کو” ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کے اسے لے جائیں۔ جب پولیس اسے روکنے کے لیے آگے بڑھی تو ظاہر نے انسپکٹر کیانی کو کالر سے پکڑ لیا۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو ظاہر کو کمرہ عدالت سے گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
جب وہ مزاحمت کرتا رہا تو چار پولیس والے ظاہر کو باہر لے گئے اور دوبارہ جیل میں لے گئے۔

جج ربانی نے کہا کہ وہ ملزم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کریں گے لیکن مقدمے کی سماعت جیل میں ہی شروع کریں گے۔
اسی دن بعد ازاں 3 نومبر کو جاری ہونے والے تحریری حکم نامے میں جج نے استغاثہ کو ہدایت کی کہ وہ باقی گواہوں کو 10 نومبر کو پیش کریں۔

اسلام آباد میں ریسر سلمیٰ مروت خان کی گاڑی کی موٹر سائیکل سے ٹکر، ایک شخص جاں بحق ۔ Racer Salma marwat khan hit and run case
ایف آئی آر (مقدمہ) کی تفتیش تبدیل کروانے کا طریقہ کار

اپنا تبصرہ بھیجیں

four × four =