دلچسپ سوالات کے جوابات

ہم آنکھیں کیوں جھپکتے ہیں؟

ہمیں آنکھیں جھپکانے میں ایک سیکنڈ کا صرف دسواں حصہ لگتا ہے۔آنکھیں جھپکانا ہمارے جسم کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔بظاہر یہ عمل بے معنی نظر آتا ہے کیونکہ ہمیں اس کے پیچھے کی سائنس نہیں معلوم۔جب ہم آنکھیں جھپکتے ہیں تو ہماری آنکھوں میں ایک مواد(لوشن کی مانند) ہماری آنکھوں سے باہر آتا ہے اور آنکھوں کے گرد پھیل جاتا ہے۔یہ مواد کیا کرتا ہے؟ یہ ہماری آنکھوں کی میل اور گرد صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔آنکھیں جھپکانے سے ہماری آنکھیں تیز روشنی سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔آنکھیں جھپکتے ہوئے ہم آنکھوں میں اندھیرا محسو س کیوں نہیں کرتے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ اتنے معمولی سے وقت کو نظر انداز کر دیتاہے(جیسا اوپر بیان کیا گیا کہ ایک سیکنڈ کے دسوے حصے جتنے وقت کے لئے ہماری آنکھ جھپکتی ہے) لہٰذا ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہماری آنکھیں بار بار جھپک رہی ہیں۔

کرپٹ لوگ اپنا پیسہ سوس بینک میں ہی کیوں رکھتے ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ سو س بینک کسی شخص کا اکاؤنٹ کسی دوسرے شخص کو نہیں بتاتا۔یہاں تک کہ سوس بینک میں کام کرنے والوں کو بھی کسی شخص کا اکاؤنٹ نمبر معلوم نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے چور، کرپٹ اپنا پیسا سوس بینک میں رکھتے ہیں۔

کتے رات کو کیوں بھونکتے ہیں؟

کہا جاتا ہے کہ کتوں کی سونگھنے اور سُننے کی حس بہت زیادہ تیز ہوتی ہے، رات کو سرگرمیاں کم ہونے کی وجہ سے شور زیادہ محسوس ہو تا ہے اور آواز زیادہ سُنائی دیتی اور کتوں کی چونکہ قوت سماعت بہت تیز ہوتی ہے لہٰذا کیٹرےمکوڑے یا اس طرح کی دیگر مخلوق جن کی آوازیں ہمیں سنائی نہیں دیتی کتے سن سکتے ہیں اس لئے وہ رات کو بھونکتے ہیں۔دوسری بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ رات کے وقت انسانو ں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بھی کتے بھونکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایک بڑی وجہ اکیلا پن محسوس کرنا اور بور یت محسوس کرنا ہے جس کی وجہ سے کتے رات کے وقت بھونکتے ہیں۔

چونٹیاں کھانا لے کر ایک قطار میں کیسے اور کیوں چلتی ہیں؟

جب چیونٹی کھانا لے کر جاتی ہے تو وہ اپنے ساتھ ایک کیمیکل بھی گراتی جاتی ہے، اس کیمیکل کو فیرومونز کہتے ہیں۔اس کیمیکل کی وجہ سے دیگر چیونٹیوں کو وہ کیمیکل سونگھ کر کھانے تک پہنچنے میں مدد مل جاتی ہے اور پھر تمام چیونٹیاں اپنے پیچھے یہ کیمیکل چھوڑتی جاتی ہیں اس طرح ساری چیونٹیاں ایک سیدھی قطار میں کھانا لے کر چلتی رہتی ہیں اور واپس اپنی کالونیز میں بھی پہنچ جاتی ہیں۔

چپس کا پیکٹ آدھا خالی کیوں رکھا جاتا ہے؟

اکثر ہمارے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ چپس کا اتنا بڑا پیکٹ آدھا خالی کیوں ہوتا ہے۔کیا کمپنیز پیکٹ کو بڑا دکھانے کے لئے ایسا کرتی ہیں؟یہ وجہ نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ فیٹس اور آئل جب خراب ہو جاتے ہیں تو اس میں بدبو آنے لگتی ہے اور اس کونسپٹ کو ریسیڈٹی کہتے ہیں۔لہٰذا خراب یا گلا سڑھا کھانا آپ کو بیمار کر سکتا ہے۔چپس کا پیکٹ بھی اس کی ایک مثال ہے۔چپس میں فیٹس اور آئل ہوتے ہیں اس لئے چپس خراب ہو سکتے ہیں لہٰذا چپس کو خرابی سے بچانے کے لئے چپس کے پیکٹ میں نائیٹروجن گیس بھری جاتی ہے۔نائیٹروجن گیس فیٹس اور آئل سے بنی چیزوں کو خراب نہیں ہونے دیتی۔اسی وجہ سے چپس کا پیکٹ آدھا خالی رکھا جاتا ہے تاکہ اس میں نائیٹروجن گیس بھر ی جائے اور چپس خراب ہونے سے بچے رہیں۔

 کا کیا پس منظر ہے؟ OK

یہ لفظ ہم روز مرہ کی زندگی میں اکثر استعمال کرتے ہیں مگر ہم میں سے بہت کم کو اس لفظ کے پس منظر اور آغاز کا علم ہے۔اٹھارہ سو اڑتالیس میں بوسٹن نامی امریکی اخبار نے مذاق کے طور پر All Correctغلط سپیلنگ کے ساتھ Oll Korrect=OKلکھ دیا اوراس طرح OKؒٓ کا لفظ مشہور ہوگیاجو کہ All Correct کے غلط سپیلنگ ہیں۔مذاق میں لکھے جانے والا یہ لفظ آج Okayکے طور پر پوری دنیا میں بولا جاتا ہے اور اس لفظ کو لکھنے والے شخص کا نام ایلن واکر تھا۔

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟

ریسرچ کے مطابق بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں پانچ سے چھ مہینے کا ہوتے ہی جمائی لینا شروع کر دیتا ہے۔قبل ازیں ماہرین کا ماننا تھا کہ ہم جمائی اس لئے لیتے ہیں کہ ہمارے جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور ہم جمائی لے کر جسم میں کافی مقدار میں آکسیجن اکٹھی کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔تاہم نئی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جمائی لینا اصل میں ہمارے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا ایک طریقہ کار ہے۔کمپیوٹر کی مانند آپ کے دماغ کو کام کرنے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور جب یہ درجہ حرارت زیادہ ہو جاتا ہے تو دماغ گرم ہو جاتا ہے اور اُسے ٹھنڈا کرنے کے لئے ہم جمائی لیتے ہیں تاکہ ہمارا دماغ ٹھنڈا ہو جائے۔جمائی لیتے ہوئے ہم باہر کی ٹھنڈی ہوا سے بہت ساری آکسیجن کو جسم کے اندرلے جاتے ہیں۔جیسے ہی آکسیجن ہمارے خون میں حل ہو جاتی ہے یہ ہمارا خو ن ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ہمارے دل کی دھڑکن اور خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے، ہمارے منہ کے پٹھوں میں ایک خاص حرکت پیدا ہو تی ہے اور جیسے ہی یہ خون ہمارے دماغ تک پہنچتا ہے تو ہمارا دماغ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ہمارا دماغ گرم کیوں ہو تا ہے؟اس کی وجہ تھکاوٹ یا نیند میں کمی ہو سکتی ہے اور اس لئے ہمیں جمائی متذکرہ حالات میں زیادہ آتی ہے۔سائنسدانوں نے ریسرچ کے دوران کچھ لوگوں کے سر پر گرم جبکہ کچھ لوگوں کے سر پر ٹھنڈی پٹی رکھی۔اس تجربے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں کے سر پر گرم پٹی رکھی گئی تھی اُن میں جمائی لینے کی شرح اکتالیس فیصد تھی جبکہ جن لوگوں کے سر پر ٹھنڈی پٹی رکھی گئی تھی ان میں جمائی لینے کی شرح صرف نو فیصد تھی یعنی اگر آپ کا دماغ ٹھنڈا ہے تو آپ کو جمائیاں بھی کم آئیں گی۔

آگ بجھانے والی گاڑی /فائر بریگیڈ کا رنگ سُرخ کیوں ہوتا ہے؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سُرخ رنگ کو خطرے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔مثال کے طور پر ٹریفک سگنل اگر سُرخ ہے تو رُکنا ہے ہرا ہے تو چلنا ہے۔اس کے علاوہ سُرخ رنگ کی ویو لینتھ باقی رنگوں کی نسبت سب سے لمبی ہوتی ہے جس کی وجہ سے سُرخ رنگ باقی رنگوں کی نسبت دور سے زیادہ نمایا ہوتا ہے اسی لئے سٹاپ کا سائن بھی ہمیشہ سُرخ رنگ کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے فائر بریگیڈ کو سُرخ پینٹ کیا جاتا ہے تاکہ دور سے اسے پہچان لیا جائے اور ا ن کے لئے ٹریفک سے گزرنا آسان ہوجائے۔

کیا پانی ایکسپائر ہوتا ہے؟

پانی کبھی خراب یا ایکسپائر نہیں ہوتا مگر پانی کی بوتل پر ایکسپائری ڈیٹ کیوں لکھی ہوتی ہے؟دراصل پانی پر لکھی گئی ایکسپائری ڈیٹ پانی کے لئے نہیں بلکہ بوتل کے لئے ہوتی ہے کیونکہ پانی تو ایکسپائر نہیں ہوتا البتہ پلاسٹک کی بوتل ضرور ایکسپائر ہو جاتی ہے اور ایکسپائر ہونے کے بعد بوتل کے کیمیکلز پانی میں لیک ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو صاف پانی میں مکس ہو کر پانی کو گندا کر دیتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے نہایت مُضر ہے۔

ہم اپنا دماغ کتنا استعمال کرتے ہیں؟

اٹھارہ سو نوے میں امریکن سائیکالوجی کے باپ ولیم جیمز نے کہا تھا کہ ہمارے دماغ میں جتنی صلاحیت ہے ہم اُس کا اتنا استعمال نہیں کرتے .ہم اپنے دماغ کا بہت تھوڑا حصہ استعمال کرتے ہیں اور بعدازاں تحقیق کرتے ہوئے سائنس دان ا س نتیجے پر پہنچے کہ ہم اپنے دماغ کا صرف دس فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں اور باقی نوے فیصد ہم پوری زندگی استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں.یعنی ہمارا ماننا ہے کہ ہم اپنے دماغ کا سو فیصد استعمال نہ کر سکتے ہیں.مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے.درحقیقت ہم اپنے دماغ کا ہر حصہ استعمال کرتے ہیں.دماغ کا زیادہ تر حصہ ہر وقت ایکٹو رہتا ہے .آپ کتاب پڑھ رہے ہیں،موسیقی سن رہے ہیں یہاں تک کہ آپ سو بھی رہے ہیں تو آ پ کا دماغ ایکٹور رہتا ہے. نیورو امیجنگ ٹیکنیکس ، پیٹ سکینز اور ایم آر آئی سکینز یہ واضح طور پر دکھاتا ہے کہ ایک انسان اپنے دماغ کے سارے حصے استعمال کرتا ہے

ان سکینز نے یہ ثابت کیا ہے کہ آپ ہر روز اپنے دماغ کے سارے حصے استعمال کرتے ہیں.اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم دماغ کا نوے فیصد حصہ ختم کردیتے اور ہمیں کوئی مسئلہ بھی نہ ہوتا جیسے ہم اپینڈکس اور ٹونسلز ختم کرواتے ہیں.اگر دماغ کا زیادہ تر حصہ فالتو ہوتا تو برین ڈمیج اور دوسری دماغی بیماریوں کی وجہ سے ہمارے جسم پر بھی کوئی زیادہ اثر نہ پڑتا مگر دماغ کا کوئی ایسا حصہ نہیں جو خراب ہو جائے اور ہمیں جسمانی یا دماغی نقصان نہ ہو.انسانی جسم میں دماغ کا وزن تین فیصد ہے مگر اسے چلانے کے لئے بیس فیصد توانائی درکار ہے .ہم دن میں کھانا کھا کر کیلر یز حاصل کرتے ہیں جس سے ہمارا دماغ دل کو دھڑکنے میں مدد دیتا ہے ، ہمیں یاد کرواتا ہے کہ فون کہاں پڑا ہے، بچوں کو کتنے بجے سکول سے لانا ہے .اگر دماغ کا زیادہ تر حصہ ناکارہ ہوتا تو اُسے اتنی زیادہ توانائی لینے کی ہر گز ضرورت نہ ہوتی .ہمارا دماغ جتنا ہم جانتے ہیں اُس سے کئی گناہ زیادہ کام کرتا ہے
فرحان بٹ
گزیٹڈ افسر حکومت پنجاب

کیا پاکستان FATF(ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا؟

پنجاب پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر تقرری اور تبادلوں کا عمل۔

دلچسپ سوالات کے جوابات” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں