نور مقدم قتل کیس کےبارے میں چند اہم انکشافات.

 ! نور مقدم اور ظاہر جعفر قتل کیس
.اسلام آباد کا دل دہلا دینے والا وحشیانہ قتل کا واقعہ
.کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے

گزشتہ دنوں تقریبا عید سے ایک دن پہلے ایک خوفناک واقعہ پیش آیا.  پاکستان کی سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا ۔

اب اس قتل کا چرچا ہر جگہ سوشل میڈیا میں بھی زیادہ ہو رہا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس واردات میں قاتل نے وحشیانہ طور پر لڑکی کا قتل کیا ہے. جو کسی عام انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو سکتا۔ یعنی قاتل نے لڑکی کو پہلے ذبح کیا پھر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔

یہ ایک روح کانپنے والی بات ہے۔ یہی نہیں قاتل نے ذبح کرنے سے پہلے لڑکی کے جسم پر چھری سے وار کرکے اس کوتشدد کانشانہ بھی بنایا۔
اس وحشیانہ قتل کو دیکھ کر بظاہر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قتل انتہائی نفرت کے جذبات میں کیا گیا۔  عام قتل میں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اذیت ناک موت کے بعد مردے کا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔
جس شخص نے نور مقدم کا قتل کیا ہے وہ کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ ایک پڑھا لکھا کاروباری شخص ہے ۔اگر کوئی پڑھا لکھا آدمی اس طرح کا کام کرسکتا ہے تو یقینا اس کی تربیت کی بات آتی ہے ۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے
“تربیت کے بغیر تعلیم جہالت
بڑھانے کے سوا کچھ نہیں کرتی ”
بہرحال نور مقدم اور ظاہر جعفر کے خاندان کی بات کی جائے تو دونوں کھاتے پیتے بڑے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں گھرانوں کا آپس میں باہمی تعلقات موجود تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نور دو دن پہلے اپنے گھر سے باہر جعفر کے ساتھ تھی۔

نور مقدم نے رقم کے انتظام کے لئے کس سے رابطہ کیا ؟

ذرائع کے مطابق نور مقدم نے اپنے ڈرائیور سے رابطہ کیا. اور ڈرائیور سے یہ کہا کہ وہ جلد سے جلد اس کے لیے 6 سے 7 لاکھ روپے کا انتظام کرے۔ اور یہ بھی تاکید کی کہ اس بات کی خبر اس کے گھر والوں کو نہیں ہونی چاہیے ۔

ڈرائیور کے منع کرنے کے باوجود کہ وہ اتنی بڑی رقم کہاں سے ارینج کر سکتا ہے. نور مقدم نے زور ڈالا کہ وہ ہر صورت پیسے ارینج کرے۔ تاہم ڈرائیور مشکل سے تین سے چار لاکھ روپے ارینج کر پایا۔ نور مقدم نے ڈرائیور سے ظاہر جعفر کے گھر آنے کو کہا۔

جب ڈرائیور ظاہر جعفر کے گھر پہنچا تو نور مقدم نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ رقم لینے باہر نہیں آ سکتی۔ ڈرائیور نئے رقم مظاہر جعفر کے ملازم کو پکڑائی اور چلا گیا۔ کیونکہ ظاہر جعفر کا سیکورٹی گارڈ اس وقت گھر پر موجود تھا. اور وہ نور مقدم پر ہونے والا تشدد دیکھ رہا تھا۔ مگر اس نے نور مقدم کو بچانے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی پولیس کو خبر کی۔

نور مقدم نے اپنی جان بچانے کے لئے ظاہر جعفر کے کمرے کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر زمین پر چھلانگ لگائی۔ مگر وہ شدید زخمی ہو گئی۔ اتنے میں ظاہر جعفر فرسٹ فلور سے گراؤنڈ فلور پر آیا اور اسے بالوں سے گھسیٹتا ہوا واپس اوپر لے گیا۔

 نور مقدم قتل کیس  میں  چشم دید گواہ  کون؟

ذرائع کے مطابق ظاہر جعفر کا سیکورٹی گارڈ اس تمام صورتحال سے ظاہر جعفر کے والدین کو آگاہ کر رہا تھا۔ مگر جب نور مقدم کے گھر والوں نے ظاہر جعفر کے والدین سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مکمل انکار کر دیا ۔ اور کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
نور مقدم کے گھر والوں نے نور مقدم اور ظاہر جعفر کے میوچل فرینڈز سے رابطہ کیا۔ مگر انہیں دوستوں سے بھی کوئی مثبت خبر نہ ملی ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان دنوں کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ بات یہاں تک آ پہنچی۔ نور مقدم اور ظاہر جعفر کے درمیان تعلقات دوستی سے کچھ زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ظاہر جعفر نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ نور مقدم اسے چیٹ کر رہی تھی۔

اسی وجہ سے ظاہر جعفر نے اسے قتل کیا ہے۔ لیکن جو بھی وجوہات ہوں اس طرح دردناک قتل کا کوئی انسان مستحق نہیں ہو سکتا ۔
ظاہر جعفر مختلف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹس میں سائیکالوجی یعنی نفسیات پر لیکچر دیا کرتا تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے ماں باپ اسے ذہنی بیمار قرار دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ظاہر جعفر کے والدین اس کو بچانے کے لیے ایسا جھوٹ بول رہے ہیں۔
پولیس نے نہ صرف ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کیا. بلکہ ان تمام لوگوں کو بھی گرفتار کیا جو جو اس تمام معاملے میں شامل تھے۔ پولیس نے ظاہر جعفر کے ساتھ ساتھ ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کیا۔
جبکہ دوسری طرف نور قدم کے والدین سوشل میڈیا پر اپنی معصوم قتل ہونے والی بیٹی کیلئے انصاف مانگتے نظر آ رہے ہیں۔

بالی وڈ نے پاکستان کا ایک مشہور گانا چرا کر پاکستان مخالف فلم میں استعمال کرلیا۔

جاب انٹرویو میں بہترین کارکردگی کےآزمودہ ٹپس

اپنا تبصرہ بھیجیں

nineteen + five =