لکھائی میں سدھار کیسے پید ا کریں؟

How to improve writing?

کہا جاتا ہے کہ لکھائی ایک فن ہے جسے مشق کر کے سیکھا جاتا ہے.کیا یہ قدرتی ہے ؟ اس بابت عوام الناس میں دو اقسام کے نظریے پائے جاتے ہیں.ایک نظریہ کہتا ہے کہ یہ فن قدرتی ہوتا ہے. ایک اچھا لکھنے والے کا بیٹا حتی الامکان اچھا لکھاری بنے گا ، یہ فن اُسے موروثی طور ملا ہے.

تاہم دوسرے نظریے کے مطابق کچھ لوگ عظیم لکھاری بن پائے. حالانکہ اُن کے خاندان میں دور دور تک کوئی اچھا لکھاری پیدا نہ ہوا تھا.لہذا دونوں نظریوں کی روشنی میں جو نتیجہ اخذ کیا جا تا ہے وہ یہ ہے کہ یہ فن موروثی بھی ہو سکتا ہے اور غیر موروثی بھی .

علاوہ ازیں ،یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اچھا لکھنا ایک عظیم فن ہے. اچھا لکھنا علم منتقل کرنے کا سب سے پائیدار ذریعہ ہے.آئیے ہم چند آزمودہ اور تسلیم شدہ اقدامات کا تذکرہ کرتے ہیں.یہ وہ فارمولے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ بھی اچھا لکھنے والے بن سکتے ہیں.

تصدیق کر لیں کہ آیا لکھنے کا مناسب وقت آن پہنچا

محض ذہن میں گمان کر لینا کہ میں بہت اچھا لکھتا ہوں ، قلم اُٹھایا اور لکھنے چل دیے.ایسا ہرگز نہ کریں.قلم اُٹھا کر لکھتے ہوئے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے سے قبل اس امر کی تصدیق کر لیں.اس امر کو یقینی بنائیں کہ آپ کی تحریر میں اتنا نکھار آگیا ہے جو لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے .لہذا اپنی تحریر کو ضرورماہرین سے ملاحظہ کرواتے رہیں.

اس بابت کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں جو دراصل آپ کا خیر خواہ ہو، آپ کی ترقی چاہتا ہو.زیادہ تر لوگ حسد کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں. آپ کو کبھی سنجیدہ مشورہ نہ دیتے ہیں .جب تسلیم شدہ لکھاری آپ کی تحریر پر مہر لگا دیں. آپ کے لئے یہ ایک اشارہ ہے کہ اب لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا بہترین وقت آن پہنچا ہے .

اپنے عنوان موضوع کا تعین ضرور کرلیں

مزید برآں ،لکھنے سے قبل آپ اپنے موضوع کا ضرور تعین کر لیں.کیا آپ کہانی لکھنے میں منفرد ہیں؟ یا آپ ناول نگار ی میں بے مثال ہیں . یا آپ مضمون نگاری میں خاصے ماہر ہیں.موضوع بدلتے رہنے سے آپ اضطراب کا شکار رہتے ہیں. کبھی بھی اپنی تحریر کو پیشہ وارانہ انداز میں نہ ڈھال سکتے ہیں .لہذا اپنے موضوع کا انتخاب ضرور کرلیں اور پھر اُس سے ہٹ کر لکھائی نہ کریں.

کتابوں کا خوب مطالعہ کریں

کتابیں پڑھنے سے علم ہم میں داخل ہوتا ہے جس کا اظہار پھر ہم بذریعہ تحریر کرتے ہیں.کتا ب ایک انسان کی زندگی کے تجربے کا نچوڑ ہوتی ہے.کتاب لکھتے ہوئے ایک لکھاری کو کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے.

اس کے بعد وہ ایک باقاعدہ کتا ب لکھنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے. لہذا اپنے مضمون کے انتخاب کے بعد کتاب پڑھنے کی عادت اپنا ئیں. پیشہ وارانہ اور مشہور ادیب اور دانشوروں کی کتابوں کا مطالعہ کریں.

نقل سے پرہیز کریں

کاپی پیسٹ ایک افسوس ناک عمل ہے.کسی کے علم نظریے ، منصوبے کو چوری کرنا اور اُس میں ردوبدل کر کے اپنا خود کا لکھا ہوا ظاہر کرنا نہایت ہی گھٹیا عمل ہے.کل کو اگراس بات کا انکشاف ہو گیا کہ آپ نے کسی کا منصوبہ چوری کیا تھا، تواس امر کا آپکے کیرئیرپر بہت منفی اثر پڑے گا .

کاپی رائٹس چوری کرنے کے جرم میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے.لہذا کسی کا منصوبہ نظریہ چوری نہ کریں. جو لکھیں خود لکھیں اپنے ذہن سے لکھیں.

اپنا خود کا منفر انداز اپنائیں

اگر آپ ایک اچھا لکھنے والے بننے کے خواہاں ہیں تو اپنا خود کا منفرد انداز اپنائیں. اس طرح پڑھنے والوں کی نظر میں آپ کی اپنی ایک علیحدہ پہچان اور شناخت بن سکے گی.مثلن اپنی لکھائی میں ضرب المثل کا استعمال کرنا . محاوروں کی مدد سے لکھائی میں دم پیدا کرنا .شعرو شاعری کا اکثر و بیشتر استعمال کرنا.

یعنی لکھتے ہوئے ایک ایسا منفر انداز اپنانا جو آپ کو دوسروں لکھاریوں سے الگ تھلگ کر کےآپ کا اپنا ایک برینڈ بن جائے .جیسا کہ کچھ لکھاری اپنی لکھائی میں مزاح کا پہلو ضرور شامل کرتے ہیں ، کچھ لکھاری نصیحت آمیز جملے بڑے شاندا ر طریقے سے تحریر کرتے ہیں .

بہر کیف اپنا ایک منفرد ، انوکھا اور نیا انداز اپنائیں جو آپ کی مقبولیت میں اضافہ کرتے ہوئے آپ کو ایک عظیم ادیب بنا دے.

ٹودی پوائنٹ لکھیں

کچھ لکھنے والے محض صفحات بھرنے کے لئے ادھر اُدھر کی ہانپتے رہتے ہیں. نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اصل موضوع سے ہٹ جاتے ہیں. اس طرح اُن کی تحریر پڑھنے والوں کے دلوں میں اُتر نہ پاتی ہے .لہذا پوری کوشش کریں کہ ٹو دی پوائنٹ لکھیں اور خوبیوں سے بھرپور لکھیں اور جب تک آپ کے پاس لکھنے کو متعلقہ مواد نہیں لکھنے سے پرہیز کریں.

پڑھنے اور لکھنے کی یکمشت مشق کریں

اکثر لکھنےوالوں کا کہنا ہے کہ اُن کی لکھائی میں سدھار اُس وقت پیدا ہوا جب اُنھوں نے جس روز پڑھا اُسی روز لکھا. یعنی ایک جانب پڑھائی کریں متعلقہ مواد حاصل کریں اور پھر جو پڑھا ہے اُسے لکھ ڈالیں .

اس طرح آپ کی لکھائی میں بہت سدھار پیدا ہوگا. آپ اس امر کا تعین کرسکیں گے کہ آپ لکھتے ہوئے کونسی غلطیاں کرتے ہیں.یا د رکھیے یہ مشق کرتے ہوئے جتنے مرضی صفحے کالے کریں آپ کی مرضی ہے. کیونکہ یہ مرحلہ مشق کرنے کا ہے نہ کہ عملی اور پیشہ وارانہ طور پر لکھنے کا.

مناسب وقت کا انتخاب کریں

پورے دن میں ہر انسان پر ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جس وقت اُس کا ذہن بہت تیز چلتا ہے، بھر پور منصوبہ بندی کرتا ہے .لہذا آپ اس امر کا تعین کریں کہ آپ کا ذہن کس وقت سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے .مختلف لوگ مختلف اوقات میں بہترین کارکردگی کا مظاہر کرتے ہیں.

صبح کا وقت کچھ مکتب فکر کی نظر میں وہ وقت ہے جب انسان بہت چست اور توانا ہوتا ہے. لہذا صبح کے وقت لکھنے کی مشق کی ماہرین تجویز پیش کرتے ہیں.تاہم یہ ضروری نہیں .تحقیق کے مطابق کئی لوگ دوپہر میں جبکہ کچھ لوگ رات کے وقت موثر کارکردگی کا مظاہر کرتے ہیں.

اچھا لکھنے والوں کی صحبت اختیار کریں

سیانے کہتے ہیں جیسی سوسائٹی ویسے آپ.کوشش کریں کہ اچھا لکھنے والوں کی صحبت اختیار کریں.اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں.عظیم ادیب ضرور ایسے راز آپ سے شیئر کر سکتے ہیں جو آپ کو ایک عظیم لکھنے والے بننے میں کلیدی کردار ادا کریں گے.

تجزیہ

قلم کی دھار تلوار کی دھار سےتیز ہے ،کسی نے کیا خوب کہا ہے.آپ کی تحریر جو عوام تک پہنچے گی وہ اُن کی علمی نشو نما میں بہت اہمیت کی حامل ہوگی.اس لئے عوام تک وہ پیغام اور علم پہنچائیں جو اُن کے لئے سود مند ثابت ہو.یعنی ایسا پیغام جو گروں کو اُٹھا دے .

ایسا علم جو اُنھیں اُن کی عملی زندگیاں گزارنے میں معاون و مدد گار ثابت ہو.یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا انسان ہی ایک اچھا لکھنے والا بن سکتا ہے.لہذا اگر آپ ایک اچھے انسان ہیں تو آپ اچھا لکھاری بننے میں اپنی قسمت ضرور آزمائیں.حتی الامکان آپ ایک عظیم لکھنے والے بن جائیں.

فرحان بٹ

تعزیرات پاکستان420، 468اور471 کیا ہیں؟

شوگر کنٹرول کرنے کے طریقے

لکھائی میں سدھار کیسے پید ا کریں؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں