بہت سی جان لیوا بیماریوں کی تشخیص لعابِ دہن سے؟

بہت سی جان لیوا بیماریوں کی تشخیص لعابِ دہن سے؟

ماہرین کے مطابق ایک تحقیق میں یہ انکشاف کیاگیا ہے کہ لعاب دہن کی جانچ سے ذیابیطیس ٹائپ 2، ڈیمینشیا، کینسر اور بہت سی موذی بیماریوں کی کافی حد تک درست تشخیص کی جاسکتی ہے۔

ایک طبی جریدے Cureusمیں شائع ہونے والی یہ تحقیق دتہ میگھی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز انڈیا کے ماہرین کی جانب سے کی گئی ہے۔

ریسرچر ز کا کہنا ہے کہ لعاب دہن میں یورک ایسڈ کی بڑھتی ہوئی زیادتی سے کم از کم بارہ امراض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ جس میں بلند فشارِ خون، امراض قلب،گردوں کے مسائل، کینسر کی کچھ اقسام ذیابیطیس ٹائپ 2اور دماغی مرض ڈیمینشیا بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم روزانہ اوسطاً 2لیٹر تھوک پیدا کرتا ہے جو کہ 99%پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ تھوک میں 700خردیبنی اجسام اور یورک ایسڈ جیسے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔جب جسم کے مردہ اور ٹوٹے ہوئے خلیات سے بننے والا مرکب عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں یورک ایسڈ پیدا ہوتا ہے۔

یورک ایسڈ کا تعلق تکسیدی تناؤ سے ہوتا ہے۔یہ تناؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم مالیکیولز سے ربط کے لئے مناسب مقدار میں اینٹی آکسیڈ ینٹس تیار نہیں کرپاتا اور یہی تکسیدی تناؤ کئی بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔لہٰذا یہ ممکن ہے کہ ہم لعابِ دہن سے درج بالا بیماریوں کی تشخیص کرسکتے ہیں۔

انجیر کے فوائد اور استعمال کے مختلف طریقے

اپنا تبصرہ بھیجیں

10 − one =