شیزوفرینیا ایک بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماری اور اس کی علامات

شیزوفرینیا شدید طرز کی ذہنی بیماری ہے جو انسان کے سوچنے، عمل کرنے، جذبات کے اظہار کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں انسان کو مختلف قسم کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، ایسی چیزیں اور لوگ نظر آتے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ شیزوفرینیا دیگر ذہنی بیماریوں کی طرح عام نہیں ہے۔

شیزوفرینیا کے شکار افراد کو اکثر معاشرے میں، کام پر، اسکول میں اور رشتوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا شخص خوفزدہ،اکیلا، اور حقیقت سے غیر وابستہ رہتا ہے۔ اس بیماری کو مکمل طور پر ٹھیک تو نہیں کیا جا سکتا۔تاہم مناسب علاج کے ساتھ اس پر قابو ضرور پایا جا سکتا ہے۔

شیزوفرینیا  کی  علامات

شیزوفرینیا آپ کے سوچنے ، محسوس کرنے اور کام کرنے کے طریقہ کو تبدیل کرتا ہے۔ اس کی محتلف علامات ہیں۔شیزوفرینیا کے شکار شخص میں تمام علامات سارا وقت نہیں ہوتی۔ اس کی علامات عام طور پر 16 سے 30 سال کی عمر کے درمیان ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ مردوں پر اسکے اثرات عموما خواتین سے پہلے واضح جاتے ہیں۔

واضح علامات شروع ہونے سے پہلے اکثر اوقات انسان میں بتدریج تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اسے بعض اوقات “پروڈوم” مرحلہ بھی کہا جاتا ہے۔ جب بیماری  کی  علامات شدید ہوں تو ، شیزوفرینیا میں مبتلا شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کے یہ  خیالات اور تاثرات میں حقیقت موجود بھی ہے یا نہیں۔اس بیماری کا شکار شخص جو خیالات سوچتا اور دیکھتا ہے اسی کو حقیقت جانتا ہے۔

یہ بیماری بوڑھا ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہونے لگتی ہے مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی. عام طور پر لوگ اس بیماری سے واقف نہیں ہوتے اورنہ ہی اس سے پہنچے والےنقصان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک انہیں معلوم ہوتا ہے تب تک بیماری زور پکر چکی ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ ایک سنگین بیماری ہے۔ اگر انہیں علامات کا علم ہو جائے ، تو وہ تناؤ یا تھکاوٹ جیسی چیزوں پر قابو پا سکتے ہیں۔

اگر آپ کولگتا ہے کہ آپ یا آپ کے اردگرد کسی فرد میں شیزوفرینیا کی علامت ظاہر ہو رہی ہیں تو بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں اور فوری اسکا حل تلاش کریں۔

ہیٹ سٹروک کیا ہے؟ ہیٹ سٹروک کی چند علامات اور اس سے بچنے کی چند تدابیر ۔

اپنے حقوق جانیں: پاکستان میں طلاق کے قوانین

اپنا تبصرہ بھیجیں

four − two =