سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور اُن کے حل کے لئے بہترین سفارشات

(سوشل میڈیا ) میڈیا جمہوری نظام کا چوتھا ستون ہے

آج کل میڈیا کا سب سے موثر ذریعہ سوشل میڈیا ہے جیسے فیس بک، انسٹاگرام ، ٹوئیٹر وغیرہ. یہ سماجی میڈیا سائٹس ہمارے معاشرے خاص طور پر نوجوانوں کی ذہنیت بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں. زیادہ تر نوجوان سوشل میڈیا کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے لئے استعمال کرتے ہیں

ان سائٹس کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنا پسند کرتے ہیں کہانیاں، تجربات او رخیالات شیئر کرنا پسند کرتے ہیں . سوشل میڈیا دوسروں سے بات چیت کرنے کا ایک آسان اور قابل رسائی طریقہ بن گیا ہے. یہ وہ جگہ ہےجہاں ہم اپنے دوستوں اور کنبے کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کرتے ہیں .

گزشتہ ایک دہائی میں سوشل میڈیا پر ایک ڈرامائی ترقی دیکھنے میں آئی ہے. یہ ہماری زندگی کا ضروری پہلو بن چکا ہے. بہر حال جہاں اس کے مثبت اثرات ہیں وہیں اس کے کئی منفی اثرات بھی مشاہدے میں آئیں ہیں. اُن منفی اثرات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بہرہ روی کا شکار ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہونے والے منفی اثرات وضاحت کے ساتھ پیش خدمت ہیں

صحت کے لئے نقصان دہ

سوشل میڈیا کا استعمال بغیر کسی شک و شبہہ کے فائدہ مند ہے. تاہم اس کا بے جا استعمال ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہے. کمپیوٹر یا موبائل سکرین کو زیادہ دیر تک دیکھنے سے ہماری نظر کمزور ہو سکتی ہے

رات دیر تک سماجی میڈیا کا استعمال نیند میں کمی کا باعث بن سکتا ہے. نیند میں کمی صحت پر منفی اثرات مرتب کر تی ہے. لہذا اس کا بے دریغ استعمال مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے.

زیادہ دیر تک سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اپنے کمپیوٹر اور موبائل کے سامنے ایک ہی پوسچر میں دیر پا رہنا پڑتا ہے. جس کی وجہ سے ہمارے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں. اکثر صارفین کندھوں ، ہاتھوں میں درد ہونے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں. اسی طرح صارفین سردرد خاص طور پر آدھے سر کی درد کا شکار ہو جاتے ہیں

ڈپر یشن اور بے چینی

اس کازیادہ استعمال آپ کی طبیعت اور موڈ کو اثر انداز کرتا ہے. آپ ذہنی بیماریوں بے چینی ، اضطراب، ڈپریشن وغیرہ کا شکار ہو جاتے ہو. انسان کو ذہنی طور پر صحت مند رہنے کے لئے بالمشافہ گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے

کوئی چیز بھی آپ کے سٹریس کو کم کرکے آپ کے موڈ کو اتنا تیز اور موثر انداز میں درست نہیں کرتی جتنا آپ کے چاہنےوالوں سے براہ راست ملاقات. اس کے ذریعے آپ دوسروں کی زندگیوں کے مثبت پہلو دیکھتے ہو اور پھر اُن کاموازنہ اپنی زندگی کے منفی پہلوؤں سے کرتے ہو

دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنا آپ کو بے چینی کی طرف لے جاتا ہے اور آپ کو ڈپریشن کا شکار کر دیتا ہے. سوشل میڈیاکا استعمال اس نوعیت کی صورت حال پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے

غیر صحت مند نیند

بے چینی اور ڈپریشن سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا استعمال غیر صحت مند نیند کو فروغ دیتا ہے.  غیر صحت مند نیند سے مراد نیند میں کمی کا واقع ہونا ہے.یعنی جسم کو مطلوبہ نیند سے کم نیند فراہم کرنا ۔ ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سماجی میڈیا کا زیادہ استعمال آپ کی نیند پر منفی اثر ڈالتا ہے

آپ بستر پر سونے کی نیت سے لیٹتے ہیں.اُس کے بعد پانچ منٹ کی نیت سے سوشل میڈیا کا استعمال کرنا شروع کرتے ہیں.اس کی بجائے گھنٹوں بستر میں لیٹے ہوئے سماجی میڈیا کا استعمال جاری رہتا ہے۔  نیند جیسی عظیم نعمت کو سماجی میڈیا کے ہاتھوں ضائع مت ہونے دیں

عمومی لت

سگریٹ نوشی اور شراب کے نشے کی عادت سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا نشہ یا لت ہے. کچھ لوگ بغیر سوچے سمجھیں ہر وقت سوشل میڈیا چیک کرتے رہتے ہیں . سوشل میڈیا کی لت ہمیں اپنوں سے دور کر دیتی ہے. ہم تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں

ہمیں عملی زندگی میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. سوشل میڈیا سائٹس تو چاہتی ہیں کہ صارف چوبیس گھنٹے اُن کی ویب سائٹس استعمال کریں کیونکہ وہ بذریعہ اشتہار پیسے کمار رہی ہیں. ہمیں سوشل میڈیا کی لت لگنے میں اُن کا فائدہ ہے جبکہ ہمارا غیر تلافی نقصان. اگر سوشل میڈیا کے استعمال کو ترک کرنا ہی مسئلے کا حل ہے تو اُسے ہمیشہ کے لئے نہیں تو کم از کم وقتی طور پر تر ک ضرور کرد یں

لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی خواہش

سماجی میڈیا کے برے ہونے کی ایک بڑی وجہ ہر وقت لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی چاہت ہے. گول مول اور غیر مبہم سٹیٹس اپ لوڈ کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کرنےکی اکثر لوگوں میں بری عادت پیدا ہوجاتی ہے. یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی تحقیق سے پتا لگا ہے کہ سماجی جانور (انسان )کے وجود میں رہنے یا زندہ رہنے کی سب سے بڑی وجہ توجہ ہے

سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس لگا کر یا سٹیٹس اپ لوڈ کرکے ہم وہ دکھاتے ہیں جو ہم دکھانا چاہتے ہیں نہ کہ ہم وہ دکھاتے ہیں جو ہم اصل میں ہوتے ہیں. ہم توجہ حاصل کر تو لیتے ہیں مگر پھر بھی ہم پہلے سے زیادہ اکیلے اور الگ تھلگ ہوجاتے ہیں
لہذا سوشل میڈیا ہماری زندگی پر کئی منفی اثرات ڈالتا ہے

ہدف سے توجہ کا ہٹ جانا

اکثر لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنے ہدف سے توجہ ہٹا لیتے ہیں. کیونکہ ہدف حاصل کرنے کے لئے طاقت، محنت ، لگن اور شوق چاہیئے جو ایک مشکل کام ہے . جبکہ سوشل میڈیا پر وقت گزاری کر کے وقتی طور پر خوشی حاصل کرنا خاصا آسان ہے. لوگ اپنے مقصد، گول اور ہدف کو بھول جاتے ہیں یا اُس کو حاصل کرنے کی کوشش کو روک دیتے ہیں اور انٹرنیٹ کا ستارہ بننے میں مصروف ہوجاتے ہیں

بچوں کے لئے نقصان کا باعث

سوشل میڈیا نابالغ بچوں کے لئے نقصان دہ ہے. کیونکہ یہاں اکثر جنس پرست اور تشدد پر مبنی مواد شیئر کیا جاتا ہے جو بچوں کی تفسیات پر برا اثر ڈالتا ہے . اس کی وجہ سے بچے مستقبل میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں. بچوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ملک وقوم کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے کیونکہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں

ذاتی معلومات کا لیک ہونا

سوشل میڈیا کا ایک بڑا نقصان ذاتی معلومات کا لیک ہو جانا بھی ہے. جرائم پیشہ افراد ذاتی معلومات ، مواد ، تصاویر کا غلط استعمال کر تے ہیں. آپ کو بلیک میل کر کے بھتہ وصول کرتے ہیں .اس کی بڑی وجہ صارفین کی جانب سے بہت زیادہ ذاتی معلومات کا شیئر کرنا ہے

حالانکہ سوشل میڈیا ویب سائٹس رازداری کو یقینی بنانے کے لئے سخت سیکیورٹی مہیا کرتی ہیں. اس کے باوجود آپ کی ذاتی معلومات تک جرائم پیشہ افراد رسائی حاصل کر کے آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں

طالب علموں کی تعلیم پر منفی اثرات

طلباء کی تعلیم پر سماجی میڈٰیا کی وجہ سے منفی اثرات پڑتے ہیں. اس کے استعمال کی وجہ سے طلباء اپنی پڑھائی پر دھیان نہیں دے پاتے جس کی وجہ سے اُن کی کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے. طلباٰء کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں لہذا انھیں امتحانات میں ناکامی سے دو چار ہونا پڑتا ہے

غیر تحقیق شدہ معلومات کی اشاعت

اکثر سماجی میڈیا پر لوگ کوئی خبر یا معلومات ملاحظہ کرتے ہیں اور اُسی طرح اُسے کاپی کرکے پیسٹ کر دیتے ہیں. یہ قدم نہایت نقصان دہ ہے.کیونکہ جو معلومات ، خبر یا کوئی واقع ہم پوسٹ کررہے ہیں وہ غلط بھی ہو سکتا ہے. اس طرح لوگوں تک غلط علم، معلومات یا خبر پہنچے گی جس پر لوگ بھروسہ کریں گے

درحقیقت وہ خبر جھوٹی تھی جس پر لوگ یقین کیئے ہوئے ہیں.غلط معلومات کی اشاعت بہت بڑی سماجی برائی ہے . یہ معاشرے اور سماج میں کئی قسم کے منفی اثرات ڈالتی ہے

منفی اثرات سےبچنے کا حل( سفارشات )

ہر چیز کے دونوں منفی اور مثبت پہلو ہوتے ہیں. سمجھداری اسی میں ہے کہ ہم اُس پہلو پر دھیان دیں جو مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے. سوشل میڈیا کا استعمال ضرور کریں.مگر منصوبہ بندی کو ملحوظ خاطر رکھیں

وقت مقرر کریں

وقت مقرر کرلیں جس دوران آپ سوشل ویب سائٹس کو ایکسپلو ر کریں گے.بچوں کو بھی سوشل میڈیا استعمال کرنا چاہیئے .تاہم والدین اپنی نگرانی میں بچوں کو سماجی ویب سائٹس کا استعمال کروائیں. تاکہ بچے کسی سماجی برائی کا شکار نہ ہو پائیں

ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں

اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو پرائیویسی کا نفاذ کریں. کاپی پیسٹ پالیسی سے اجتناب کریں. جب تک دل کی تسلی نہ ہوجائے کبھی معلومات شیئر نہ کریں

صرف تحقیق شدہ معلومات پوسٹ کریں

صرف تحقیق شدہ معلومات پوسٹ کریں تاکہ لوگوں تک درست اور سچی معلومات یا علم پہنچ سکے. خود کو سوشل میڈیا کی اتنی عادت ہر گز نہ ہونے دیں کہ بعدازاں اس کی غیر موجودگی میں آپ کی نفسیات کو ٹھیس پہنچے. سماجی میڈیا سائٹس پر لوگوں کی رنگا رنگ سرگرمیوں، تصاویر وغیرہ کو دیکھ ہر گز اپنی زندگی کے ساتھ موازنہ نہ کریں

اس طرح آپ حسد اور احساس کمتری میں مبتلا ہونگے. یاد رکھیے ضروری نہیں جو لوگ میڈیا پر دکھا رہے ہیں وہ سچ ہو  اگر یہ سچ بھی ہو تو حسد نہ کریں. کیونکہ دنیا میں کروڑوں لوگوں کی خواہش ہوگی کہ اُنھیں بھی وہی مقام مل جائے جو آپ کو حاصل ہے. لہذا ہمیشہ اپنی نچلی سطح کے لوگوں کو دیکھیں جن کی نسبت آپ کی زندگی نہایت ہی پر سکون اور آرام دہ ہے  اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہیں.کیونکہ وہ خود کہتا ہے کہ جو لوگ شکر کرتے ہیں ہم اُن کو زیادہ عنائیت کرتے ہیں

فرحان بٹ(گزیٹڈ افسر حکومت پنجاب)

منی لانڈرنگ اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010کیا ہے؟
اردو بلیٹن کا تمام قارئین کے لئے ضرور ی پیغام۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

5 × three =