( دی الکیمسٹ:ناول)

( دی الکیمسٹ:ناول)  مشہور مصنف پولو کوئلو نے الکیمسٹ کے نام سے ایک ناول لکھا تھا۔یہ دنیا کے عظیم ترین ناولز میں سے ایک ہے۔اس ناول نے مصنف کو شہرت کی اُن بلندیوں پر پہنچا دیا جس کا صرف لوگ تصور کر سکتے ہیں۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

ا س ناول نے دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو مثبت انداز میں متاثر کیا۔اس ناول نے کروڑوں لوگوں کی زندگیا ں بدلیں۔اس ناول کا تقریباً چالیس زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔آپ زندگی کے جس فیز میں بھی ہیں آپ کے لئے ا س ناول کا مطالعہ کرنا اشد ضروری ہے۔کیونکہ اس ناول میں کچھ کرشماتی باتیں کی گئی ہیں جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہیں۔

کہانی کا خلاصہ

اسپین کے شہر ایندولیزیا میں ایک لڑکا رہتاہے جس کا نام سینٹیاگوہوتاہے اور اُسے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔لڑکا اپنے والد سے ضدکر کے کچھ بکریاں خریدتا ہے تاکہ اُنھیں وہ چرہاتے ہوئے اپنا شوق پورا کر لے۔اُ س کا کچھ عرصہ پہلے طریفہ جانا ہوا جہاں اُسے ایک لڑکی ملی تھی جو اُسے بہت پسند آئی۔اُس نے سوچا کہ طریفہ جاکر اُسے دوبارہ ملنا چاہیئے لہٰذاوہ طریفہ کے سفر پر روانہ ہوتا ہے۔راستے میں رات ہوجاتی ہے۔وہاں اُسے ایک چرچ دِکھتا ہے جہاں وہ اپنی بکریوں  کو باندھ کر سیقہ مور نامی درخت کے نیچے سوجاتا ہے۔

وہ ایک خواب دیکھتا ہے کہ ایک بچہ اُس کی بکریوں کے ساتھ کھیل رہا ہے. دیکھتے ہی دیکھتے بچہ لڑکے کا ہاتھ پکڑ کر اُسے مصر پیرامڈز کی جانب لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہاں خزانہ دفن ہے .جیسے ہی بچہ وہ خزانے  کی جگہ بتانے لگتا ہے تو لڑکے کی  آنکھ کھل جاتی ہے۔لڑکا اُٹھتے ہی بہت پریشان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہی خواب وہ پہلے کئی بار  دیکھ چکا  ہے ۔

لہذا وہ طے کرتا ہے کہ وہ اس بار خواب کی تعبیر ضرور پتہ کرے گا۔لڑکا طریفہ میں ایک عورت کو  جانتا ہے جو خوابوں  کی تعبیر بتا تی  ہے. لہٰذا وہ اُس عورت کے پاس جاکر اپنے خواب کی تعبیر دریافت کرتا ہے۔عورت کہتی ہے کہ وہ اس شرط پہ خواب کی تعبیر اُسے بتائے گی اگر وہ خزانہ ملنے کے بعد اُس کا دسواں حصہ عورت کو دے گا۔لڑکا اُس کی شرط مان لیتا ہے۔عورت کہتی ہے کہ لڑکے کے نصیب میں ایک بہت ہی بڑا خزانہ لکھا ہے جس کی کھوج کے لئے اُسے مصر جانا پڑے گا۔لڑکے کو اُس کی بات پر یقین نہیں آتا اور وہ الجھن کا شکار ہوجاتا ہے( دی الکیمسٹ:ناول)۔

بعدازاں لڑکے کی ملاقات ایک بوڑھے آدمی سے ہوتی ہے جو لڑکے سے خزانے کی بابت بات چیت شروع کر دیتا ہے۔لڑکا اُس بوڑھے آدمی کو اُس عورت کی چال سمجھتا ہے۔مگر لڑکے کی حیرانگی کی انتہا نہیں رہتی جب وہ بوڑھا زمین پر لڑکے کے ماں باپ کا نام لکھتا ہے .علاوہ ازیں بوڑھا لڑکے کی زندگی کے حوالے سےپوشیدہ باتیں بتاتا ہے ۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

بوڑھا کہتا ہے کہ وہ لڑکے کو خزانے کا پتہ بتا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے لڑکا اُسے اپنی بکریوں کا دسواں حصہ دے۔لڑکا کہتا ہے کہ جب اُسے خزانہ ملے گا وہ بوڑھے کو اُس خزانے کا دسواں حصہ ضرور دے گا . بوڑھاشخص کہتا ہے کہ لڑکا اُس کے ساتھ کسی ایسی چیز کا وعدہ کیسے کر سکتا ہے جو ابھی اُ س کی ملکیت ہی نہیں۔بوڑھا کہتا ہے جب انسان جوان ہو تا ہے تو بہت بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے۔اُس کے بہت بڑے بڑے گولز ہوتے ہیں۔

اسی طرح انسان کے کم عمر ی میں بہت بڑے بڑے مقاصد ہوتے ہیں۔مگر جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ قوت ارادی میں کمی اور معاشرے کے دباؤ کے باعث اپنے خوابوں کو بھولنا شروع کر دیتا ہے. اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اپنے خوابوں اور مقاصد کو مکمل طور پر بھول جاتا ہے.لہذا وہ معمول کی زندگی گزارنے لگتا ہے۔بوڑھا ایک او ر سنہری بات کہتا ہے کہ جب انسان کسی چیز کو بہت شدت سے چاہتا ہے تو پوری کائنات اُس انسان کو اُس کی چاہت سے ملانے میں لگ جاتی ہے۔لڑکا بوڑھے کی باتیں سُن کر حیران و پریشان ہوتا ہے اور اُس کی بات مان لیتا ہے۔

لڑکا اپنی بکریوں کو بیچتا ہے اور اُس کا دسواں حصہ بوڑھے شخص کو دے دیتا ہے۔بوڑھا آدمی لڑکے کو خزانے تک پہنچے کے لئے ضروری ہدایات دیتا ہے. اُسے دو پتھر بھی عنائیت کرتا ہے جن کے استعمال سے وہ قدرت کے اشاروں کو سمجھ کر بہترین فیصلے کر سکتا ہے۔لہٰذا لڑکا اپنا سفر شروع کر دیتا ہے. وہ مراکش  کے شہر ٹینجیئرز پہنچتا ہے جہاں ڈاکو اُس کا سارا پیسہ لُوٹ لیتے ہیں۔

لڑکا  افسردگی میں سوچتا ہے   کہ پیسے بھی گئے، بکریا ں بھی گئی، گھر بھی گیا اور ایک انجان ملک میں وہ تنہا رہ گیا .تاہم لڑکا ہمت نہیں ہارتا۔وہاں ایک کرسٹل کی دُکان ہوتی ہے. لڑکا دکان کے مالک سے ڈیل کرتا ہے کہ وہ اُس کے دُکا ن پر موجود کرسٹلز کو رگڑ کر چمکا دے گا. ا س طرح وہ زیادہ بک جایا کریں گے۔بدلے میں اُس کا دو وقت کی روٹی کا سوال ہے۔کرسٹل مرچنٹ لڑکے سے ڈیل کر لیتا ہے۔( دی الکیمسٹ:ناول)

لڑکا  کام کرنا شروع ہی کرتا ہے کہ دُکا ن پر گاہکوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔مالک لڑکے سے بہت خوش ہوتا ہے اور اُسے مستقل ملازمت پر رکھ لیتا ہے۔کچھ عرصہ بعد لڑکا  کا  فی پیسے بنا لیتا ہے۔ ایک دن لڑکے کو معلوم پڑتا ہے کے مراکو سے ایک قافلہ سہارہ ڈیزرٹ سے ہوتا ہوا مصر جارہا ہے۔وہ اپنے مالک سے اجازت لیتا ہے اور قافلے کا حصہ بن جاتا ہے۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

قافلے میں اُسے ایک انگریز ملتا ہے جو لڑکے کو بتاتا ہے کہ وہ ایک ایسے الکیمسٹ کی تلاش میں ہے جس کی عمر ڈھائی سو سال ہے. وہ الکیمسٹ جو تانبے کو سونے میں بدلنے کا جوہر جانتا ہے۔وہ دونوں جب الکیمسٹ کے گاؤں پہنچتے ہیں تو وہاں دو قبیلوں میں سخت جنگ چھڑ جاتی ہے۔وہ کچھ دن اُس گاؤں میں ٹھہرنےکا  فیصلہ کرتے ہیں۔اُس گاؤں میں لڑکے کی ملاقات ایک فاطمہ نامی لڑکی کے ساتھ ہوتی ہے اور دونوں میں پیار ہوجاتا ہے۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

ایک دن لڑکا آسمان میں دو چیلوں کو  لڑتے دیکھتا ہے۔لڑکا قدرت کے اُس اشارے کو سمجھ جاتا ہے.وہ گاؤں کے سردار کے پاس جاتا ہے اور اُسےبتاتا ہے کہ اُس گاؤں پر حملہ ہونے والا ہے۔جس پر سردار لڑکے کو کہتا ہے کہ اُس کی بات سچ ثابت ہوئی تو ٹھیک ہے بصورت دیگر وہ لڑکے کو قتل کروا دے گا۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

اگلے ہی روز اُس گاؤں پر فوج کا حملہ ہوجاتا ہے۔پیش گی تیاری کے باعث وہ اُس حملہ آور فوج کو ہرا دیتے ہیں۔یہ دیکھ کر گاؤں کا سردار بہت خوش ہو تاہے او ر لڑکے کو  خوب ساری رقم دیتا ہے اور اُسے گاؤں کا کونسلر بھی بنا دیتا ہے۔لڑکا سوچتا ہے کہ اُس کے پاس پیسے بھی ہیں، وہ گاؤں کا کونسلر بھی بن گیا ہے . سب سے بڑھ کر فاطمہ بھی اُسی شہر میں ہے لہٰذا اب کیوں  اتنی محنت کرکے کسی خزانہ کے پیچھے جانا ہے.

( دی الکیمسٹ:ناول)۔لڑکا مزید سوچتا ہے کہ ایسی چیز کی طرف کیوں  جایا جائے جس کے وجود  میں شق و شبہ ہو۔یہ ساری باتیں جب وہ فاطمہ کو بتا تا ہے تو وہ اُس کی بات سے متفق نہیں ہوتی .وہ کہتی ہے کہ وہ ایک صحرائی عورت ہے اور صحرائی عورتوں کو انتظار کی عادت ہوتی ہے۔وہ لڑکے سے کہتی ہے کہ اُس نے جو خواب دیکھا ہے وہ اُسے ضرور پورا کرے۔

پھرلڑکا الکیمسٹ کے پاس جاتا ہے اور اُسے سارا ماجرا بتاتا ہے لہٰذا الکیمسٹ اور لڑکا دونوں خزانہ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔کچھ دور جانے کے بعد وہاں کے قبیلے والے اُن دونوں کو  جاسوس سمجھ کر گرفتا ر کر لیتے ہیں اور لڑکے کے پیسے بھی چھین لیتے ہیں( دی الکیمسٹ:ناول)۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

الکیمسٹ صورت حال سے نکلنے کے لئے سردارسے کہتا ہے کہ لڑکا ایک جادو گر ہے. اگر اُس نےلڑکے کو تین دن میں رہا نہ کیا تو وہ اپنے آپ کو آندھی میں تبدیل کرکے اُسکے پورے قبیلے کو  اُڑا دے گا۔سردار اُس  کی بات کو مزاق میں لیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر یہ بات سچ ثابت ہوئی تو وہ اُن دونوں کو رہا کر دے گا ورنہ دونوں کو قتل کر دے گا۔

لڑکا الکیمسٹ پر بہت زیادہ برہم ہوتا ہے اور الکیمسٹ سے کہتا ہے کہ اُسے یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی. الکیمسٹ لڑکے کو جواب دیتا ہے کہ ہمیں یہ دن ملے  ہیں  جو ہمارے پاس جان بچانے  کا  ایک موقع ہے. لہٰذا زندگی اور موت کو ایک طرف کر کے قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاؤ اور صحرا کی زبان کو سمجھو۔

تیسرے دن لڑکا ریت کے سب سے اُونچے ٹیلے پر کھڑا ہو کر آسمان کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے . دیکھتے ہی دیکھتے بہت تیز آندھی چلنا شروع ہو  جاتی ہے. لہذا گاؤں والے یقین کر لیتے ہیں کہ    لڑکا  اصل میں ایک جادوگر ہے لہٰذاوہ دونوں کو  جانے کا راستہ دے دیتے ہیں۔

( دی الکیمسٹ:ناول) وہاں سے نکلتے ہی وہ ایک راہب کی جھونپڑی کے پاس رُکتے ہیں اور اندر داخل ہوجاتے ہیں۔الکیمسٹ سونے کو تانبے میں بدلتا ہے اور اُس کے چار حصے کرتا ہے . ایک حصہ لڑکے کو دیتا ہے، دوسرا اُس راہب کو دیتا ہے، تیسرا اپنے پاس رکھتا ہے. جبکہ چوتھا حصہ بھی اُس راہب کو دے کر کہتا ہے کہ لڑکا جب مصر سے واپس آئے گا تو چوتھا حصہ راہب لڑکے کو دے گا۔یہ کہتے ہی الکیمسٹ وہاں سے غائب ہو جاتا ہے۔

لڑکا اکیلا اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور اس کے بعد پیرامڈز پہنچتے ہی لڑکااُس خزانے کو حاصل کرنے کے لئے کُھدائی شروع کردیتا   ہے. اچانک  وہاں کچھ چور نمور دار ہوتے ہیں اور لڑکے کو برُی طرح مارنا  پیٹنا شروع کر دیتے ہیں. وہ لڑکے کے ہاتھ میں سونا جو الکیمسٹ نے اُسے دیا ہوتا ہے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں وہاں کوئی خزانہ دفن  ہے جسے لڑکا تلاش کر رہا ہے۔

مار کھا تے کھاتے جب لڑکے کی برداشت ختم ہوجاتی ہے تو وہ چوروں کو اپنی ساری کہانی بیان کر دیتا ہے۔  چور لڑکے کی بات سُن کر زور زور سے قہقہے لگا کر ہنسنا  شروع کردیتے ہیں۔ چوروں کا سردار لڑکے کو کہتا ہے کہ تم بہت بڑے احمق ہو۔مجھے بھی ایک دفعہ خواب آیا تھا کہ طریفہ میں ایک پُرانے چرچ کے پاس سیقہ مور نامی درخت  کے نیچے خزانہ دفن ہے .مگر میں تمہاری طرح بے وقوف نہیں کہ اپنے خوابوں کے پیچھے چلتے ہوئے اتنی تگ و دو کروں اتنی مشقت کروں۔یہ کہہ کر چور لڑکے کو پاگل قرار دے کر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔اُن کے جانے کے بعد لڑکا مسکرا تا ہے اور جان جاتا ہے کہ اصل میں خزانہ کہاں ہے( دی الکیمسٹ:ناول)۔

( دی الکیمسٹ:ناول)

کہانی سے حاصل کر دہ چھ سبق 

سبق نمبر ا۔ ہر انسان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہونا چاہیئے۔اور ایسی زندگی بے معنی ہے  جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔لہٰذا زندگی میں ضرور خواب دیکھیں اور اُن کی پیروی میں لگ جائیں۔

سبق نمبر۲۔ جب آ پ خوابوں کی پیروی کریں گے اُن کے پیچھے جائیں گے تو بہت سی  مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔لہٰذا مشکلات کے لئے تیار رہیں۔

سبق نمبر ۳۔ آپ کو خوابوں کے پیچھے چلتے ہوئے اکثر  بہت ڈر لگے گا۔خوف آئے گا جو آپ کے لئے رکاوٹ بنے گا۔مگر یادر کھیں جس غار میں آپ جانے سے ڈرتے ہیں وہیں آپ کا خزانہ ہو تا ہے اور ڈر کے آگے ہی جیت ہوتی ہے ۔

سبق نمبر ۴۔ خوابوں کےپیچھے  چلتے ہوئے ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا جب آپ بہت سکون محسوس کریں گے. سوچیں گے کہ زندگی گزارنے کا سارا سامان تو مجھے مل گیا ہے اب کیونکر خوابوں کے پیچھے چلیں (کہانی میں سینٹیاگو دو دفعہ ایسے مرحلوں سے گزرتا)۔ایک دفعہ  جب وہ کرسٹل کی دکان پر کام کر رہا ہوتا ہے. دوسر ی دفعہ جب گاؤں کا سردار اُسے پیسے دیتا ہے، کونسلر بنا تا ہے  اور لڑکے کو فاطمہ کا ساتھ بھی  حاصل ہوتا ہے)( دی الکیمسٹ:ناول)۔

سبق نمبر ۵۔ آپ کی زندگی میں رشتہ دار، فیملی بہت اہم ہیں اور وہ آپ کو آپ کے خوابوں کو پورا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔(ا س کہانی میں جس طرح فاطمہ نے کیا جب سینٹیاگو اپنے خواب کا تعاقب کرنے سے رکنے کے لئے سوچ رہا تھا)۔

سبق نمبر چھ۔ہمیں کبھی ہار نہیں ماننی، کبھی رکنا نہیں۔گو  اپ نہیں کرنا۔کوشش کرتے رہنا ہے جب تک ہمارا خواب سچا نہیں ہو جاتا۔
فرحان بٹ
لیکوریا کیا ہے ؟ لیکوریا کا علاج اور اسکی وجوہات کےبارےمیں جانتے ہیں.
ویمین ایمپاورمنٹ کیا ہے اور آخر یہ اتنی اہم کیوں ہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں