افغانستان کی موجودہ صورتحال اور امریکی پیشن گوئیاں

امریکی جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے تین روز پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ غیرملکی فوجی انخلا کے بعد طالبان کی جانب سے افغانستان میں پھر سے پہلے جیسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں یا ممکنہ نتائج کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جن میں افغان حکومت کا خاتمہ، خانہ جنگی، انسانیت سوز تباہی اور اس سرزمین پر القاعدہ کی بحالی شامل ہیں۔ امریکی جنرل کے مطابق اتحادی فوج کے انخلا کا بہترین نتیجہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور معاہدہ ہو سکتا ہے تاہم امریکی فوجیوں کے جانے کے بعد اگر القاعدہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کی نگرانی اور پیچھا کیا جائے گا۔ امریکی حلقوں کو یہ بھی خدشات ہیں کہ اگر افغانستان میں طالبان نے حکومت سنبھال لی تو سول سوسائٹی کے حوالے سے گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیشرفت اور خواتین کے حقوق ختم ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے صدر جوبائیڈن اپنے 14اپریل کے اعلان میں کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن مستقبل میں افغان سیکورٹی فورسز اور خواتین سمیت عوامی منصوبوں کی معاونت جاری رکھے گا۔ متذکرہ صورتحال کی روشنی میں جمعرات کے روز کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے فوج بلا نے کے بعد ہمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔ ان کی یہ سوچ اس لحاظ سے مثبت ہے کہ امن مخالف قوتوں نے گزشتہ 20برس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے بڑھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، کشیدگی پیدا کرنے کیلئے ایک طرف افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدوں پر حملے کئے اور دوسری طرف افغانستان میں بم دھماکے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کیں لیکن پاکستان نے حقائق بھانپتے ہوئے افغان حکومت کو ہمیشہ مشترکہ دشمن سے باخبر رکھا۔ یہ صدیوں پرانی حقیقت ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی سرزمین پر بسنے والے لوگ مذہب، ثقافت اور تہذیب و تمدن کی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ہمیشہ آپس میں ملتے جلتے اور ہر خوشی غمی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ آپس کی رشتہ داریاں، تجارت، آزادانہ نقل و حرکت سے قیام پاکستان کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان برائے نام سرحد قائم رہی۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں امریکہ کھلے دل سے یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام میں صدیوں پرانے رشتوں کی وجہ سے فاصلے بڑھائے نہیں بڑھ سکتے جس کی بدولت وہ مفاہمتی عمل میں پاکستان کی شرکت نا گزیر سمجھتا ہے۔ ادھر مجاہدین کی جانب سے کابل میں سوویت حکومت کے خاتمے کی 29ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر اشرف غنی نے کہا کہ امن عمل میں ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھنا چاہئے۔ ان کے بقول افغانستان میں جنگ اور تشدد کے ذریعے عوام پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ طالبان جنگ ترک کرکے اقتدار میں اشتراک کے لئے جمہوری طریقہ اپنائیں لیکن جوں جوں غیرملکی افواج کے انخلا کا وقت نزدیک آرہا ہے افغانستان کی زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری کو مستقبل کے حوالے سے امریکہ جیسے خدشات لاحق ہو رہے ہیں جنھیں دور کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس افغانستان جانے سے قبل پاکستان آئے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ جمعرات کے روز امریکی سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں دونوں عہدیداروں نے افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کے تمام سیاسی گروپ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں تمام تر معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

thirteen + three =